کوئی بھی لمحہ کبھی لو ٹ کر

January 23, 2012 in Famous Poets, Poetry

کوئی بھی لمحہ کبھی لو ٹ کر نہیں آتا
وہ شخص ایسا گیا پھر نظر نہیں آیا
وفا کے دشت میں رستہ نہیں ملا کو ئی
سوائے گردِ سفرہم سفر نہیں آیا
پَلٹ کے آنے لگے شام کے پرندے بھی
ہمارا صبح کا بھولا مگر نہیں آیا
کسی چراغ نے پو چھی نہیں خبر میری
کوئی بھی پھول میرے نام پر نہیں آیا
چلو کہ کوچہءِ قاتل سے ہم ہی ہو آئیں
اِک نخل دار پہ کب سے ثمر نہیں آیا
خُدا کے خوف سے دِل لرزتے رہتے ہیں
اُنھیں کبھی بھی زمانے سے ڈر نہیں آیا
کدھر کو جاتے ہیں رستے،یہ رازکیسے کھُلے
جہاں میں کو ئی بھی با رِ دگر نہیں آیا
یہ کیسی بات کہی شام کے ستارے نے
کہ چین دِل کو مِرے رات بھر نہیں آیا
ہمیں یقیں ہے امجدؔ نہیں وہ وعدہ خلاف
یہ عمر کیسے کٹے گی،اگر نہیں آیا
امجد اسلام امجدؔ

Related posts: