Latest

اسلام آباد کچہری حملہ ریاست کی مکمل ناکامی ہے،اسدعمر

اسلام آباد کچہری حملہ ریاست کی مکمل ناکامی ہے،اسدعمر
کراچی (جنگ نیوز)مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ طالبان کو اسلام آباد حملے کی مذمت کرنی چاہیے اورحملہ آوروں کا کھوج بھی لگانا چاہیے، قومی سلامتی کے امور پر اپوزیشن سیاست نہیں کررہی لیکن بلاوجہ تنقید بھی مناسب نہیں ہے۔ طالبان سے مذاکرات کا یقیناً فائدہ ہوگا، وزیراعظم کی کوششوں سے پہلی دفعہ فوجی و سول قیادت میں دہشت گردی کے حوالے سے اتفاق ہوا ہے،پاکستان عالمی ایجنسیوں کا گڑھ بنا ہوا ہے،اسلام آباد حملے کے ذمہ داروں تک پہنچیں گے۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ’’کیپٹل ٹاک‘‘ میں اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر محسن اختر کیانی اور تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کے ہمراہ مباحثے میں گفتگو کررہے تھے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ اگر طالبان سے مذاکرات ہوئے تو ناکام ہوجائیں گے، طالبان پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہیں اور پاکستان کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اس لیے ان کے ساتھ سختی سے نمٹنا چاہیے۔ اسلام آبادمیں حملے کے وقت پولیس کے صرف دو اہلکار موجود تھے، تھانہ مارگلہ کا ایک انسپکٹر اور اس کے ساتھ ایک سویلین کپڑوں میں اس کا سپاہی تھا، یہ وہ دو اہلکار تھے جنہیں دیکھا گیا۔ حملہ آوروں کی تعداد پانچ سے زیادہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ کچہری میں سیکورٹی انتظامات تسلی بخش نہیں تھے، حملے کے بعد سب سے آخر میں اینٹی ٹیررسٹ کے لوگ پہنچے،پولیس اہلکاروں کے پاس جو اسلحہ تھا وہ نہ چلتا تھا اور نہ چلانے والے اسے چلانے کا ارادہ رکھتے تھے۔تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کو اسلام آباد کچہری حملے کی مذمت کرنی چاہیے تھی۔پاکستان کے موجودہ حالات میں تنقید کرنا آسان مگر لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا مشکل ہے، اسلام آباد کچہری حملہ ریاست کی مکمل ناکامی ہے۔ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد میں حملے کے وقت پولیس کی 47 کی نفری وہاں موجود تھی، دہشت گردوں کو جس مزاحمت کا سامنا ہونا چاہئے تھا اس طرح نہیں ہوسکا، اس حملے میں ایک پولیس اہلکار شہید اور دو زخمی ہوئے ہیں۔وفاقی حکومت نے اس طرح کے واقعات کے سدباب کےلیے کوشش کی ہے۔ اسلام آباد حملے کی انٹیلی جنس انفارمیشن موجود تھی جس کے بعد سات افراد کو گرفتار کیا گیا۔ کچہری میں رینجرز تعینات ہونی چاہیے تھی،حکومت دہشتگردی کے خاتمے کےلیے جو اقدامات کررہی ہے وہ ماضی میں نہیں کیے گئے۔