Latest

اسلام آباد حملہ ٗ تحقیقاتی ایجنسیوں کو طالبان کیخلاف شواہد نہیں ملے

اسلام آباد حملہ ٗ تحقیقاتی ایجنسیوں کو طالبان کیخلاف شواہد نہیں ملے
اسلام آباد (انصار عباسی) معلوم ہوا ہے کہ آئی ایس آئی سمیت سیکورٹی ایجنسیوں اور پولیس کی جانب سے کی جانے والی اسلام آباد حملے کی تحقیقات سے کسی بھی طرح سے اس بات کے اشارے نہیں ملے کہ واقعہ میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ملوث ہے۔ ایک اعلیٰ سرکاری ذریعے نے دی نیوز کو بتایا کہ اس بات کے اشارے نہیں ملے کہ پیر کے روز ہونے والے حملے میں ٹی ٹی پی ملوث ہے۔ یہ بات امن مذاکرات کے حوالے سے حوصلہ افزاء معلوم ہوتی ہے کیونکہ مذاکراتی کا دور اہم مرحلے میں داخل ہونے جا رہا ہے جس میں حقیقی کھلاڑی یعنی حکومت، فوج اور طالبان مذاکرات کریں گے۔ حکام اب بھی یہ پتہ لگانے میں مصروف ہیں کہ اس واقعہ میں کون ملوث ہے۔ ذرائع کے مطابق دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ کارروائی کس کی ہے لیکن اب تک ٹی ٹی پی کی جانب کوئی اشارے نہیں ملے۔ حال ہی میں جنگ بندی کا اعلان کرنے والی ٹی ٹی پی پر حملے کے حوالے سے ایم کیو ایم سمیت کی سیاسی جماعتیں شک کر رہی ہیں لیکن پولیس اور سیکورٹی ایجنسیاں اس سے اتفاق نہیں کرتیں۔ تاہم، دیگر کی رائے ہے کہ اس حملے میں ایسی تیسری قوت کا ہاتھ ہے جو نہیں چاہتی کہ مذاکراتی عمل کامیاب ہو۔ اگر ٹی ٹی پی اپنے جنگ بندی کے اعلان پر قائم رہتی ہے تو اس سے مذاکراتی عمل کو بہت فائدہ ہوگا اور دونوں فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کی فضاء ختم ہوگی۔ مذاکراتی عمل شروع ہونے سے قبل ہی اس بات کی توقع تھی کہ کچھ داخلی اور غیر ملکی طاقتیں امن عمل کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کریں گی۔ ماضی میں بھی ایسی کوششیں ہو چکی ہیں کہ حکومت اور طالبان پرامن ذرائع سے اپنے مسائل حل نہ کرسکیں۔ نہ صرف امریکی ڈرون حملوں نے حکومت کی امن کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ افغانستان اور بھارت پر بھی پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے کے الزامات لگے ہیں۔ لیکن تمام تر چیلنجز اور مشکلات کے باوجود جو کچھ بھی مذاکرات کے حوالے سے حاصل، طالبان کی جنگ بندی، ہوا ہے وہ ماضی میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ اب حکومت اور دونوں فریقوں کی کمیٹیوں نے اتفاق کیا ہے کہ اب وقت آچکا ہے کہ بات چیت میں فوج کو شامل کیا جائے اور طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرکے اس پورے عمل کو معنی خیز بنایا جائے۔