Latest

امیراور ترقی یافتہ ممالک میں بھی شقی القلب مائوں نے اپنے بچوں کے خون سے ہاتھ رنگے

امیراور ترقی یافتہ ممالک میں بھی شقی القلب مائوں نے اپنے بچوں کے خون سے ہاتھ رنگے
لاہور(رپورٹ: صابر شاہ) لاہور کے جوہر ٹائون کی رہائشی بسمہ جس نے اپنے دو بچوں کو قتل کیا وہ اپنے ہی بچوں کی جان لینے والی دنیا کی واحد عورت نہیں۔ گو کہ اس کا دعویٰ ہے کہ اس نےمالی مشکلات پر شوہر سنی سے جھگڑے کے بعد درندگی کا حامل یہ انتہائی اقدام کیا۔ اپنے ہی بچوں کو قتل کردینے کا تصور ہی دلوں کو دہلا دینے والا ہے۔ غربت اور افلاس سے ہٹ کر ایسے واقعات امریکا، برطانیہ اور جرمنی جیسے ترقی یافتہ ممالک اور معاشروں میں بھی ہوتے ہیں۔ برسوں سے سفاک اور شقی القلب مائوں نے اپنے جگر گوشوں کو قتل کیا اور ان کے گلے گھونٹے۔ اکتوبر 1994میں امریکی ریاست جنوبی کیرولینا میں ایک ایسی ماں سوزن اسمتھ نے اپنے دو بچوں کو قتل کیا۔ اس نے اپنے اس غیر انسانی رویہ کا الزام اپنے بوائے فرینڈ کو دیا جو بچوں کی ذمہ داری قبول کرنے پر آمادہ نہ تھا۔ سوزن اسمتھ کو بغیر پیرول کے سزائے عمر قید دی گئی۔ 7اپریل 1987کو ٹیکساس کی عورت 40سالہ فرانسس نیو ٹن کو زہریلے انجکشن کے ذریعہ موت کی سزادی گئی۔ وہ 21سال کی عمر میں اپنے شوہر ، سات سالہ بیٹے اور 21ماہ کی بیٹی کے قتل کی مرتکب ہوئی تھی۔ ٹیکساس ہی کی اینڈریا یٹس نے جون2001میں اپنے 5بچوں کو فیملی باتھ ٹب میں ڈبوکر مارڈالا۔ اسے عمر قید کی سزاسنائی گئی۔ 1983میں اپنے تین بچوں کو گولی مار دینے پر ڈیان ڈائونس کو 1984میں عمر قید کی سزادی گئی۔1998میں 20سالہ کنیشا بیری نے انتہائی درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے چار دن کے بیٹے کے جسم اور منہ پر ٹیپ باندھ کر اور اسے کوڑے کےتھیلے میں ڈال کر کچرا اٹھانے والی گاڑی میں ڈال دیا۔ جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔