Latest

ایم کیو ایم کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، زرداری روکنے میں مدد دیں، الطاف حسین

ایم کیو ایم کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، زرداری روکنے میں مدد دیں، الطاف حسین
کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے سابق صدر آصف علی زرداری پر زور دیا ہے کہ وہ ایم کیو ایم کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنائے جانے سے روکنے میں مدد دیں۔ پارٹی رہنمائوں کا دعویٰ ہے کہ 24گھنٹوں میں ایم کیو ایم کے 24کارکن لاپتہ ہوگئے۔ دونوں رہنمائوں نے ٹیلیفون پر گفتگو میں سندھ میں امن و امان کی صورتحال اور ایم کیو ایم کے کارکنوں سے پولیس اور رینجرز کے غیرانسانی سلوک پر تبادلہ خیال کیا۔ الطاف حسین نے آصف علی زرداری کو اپنے پارٹی کارکنوں کے ماوراء عدالت قتل، غیرقانونی حراستوں اور ان پر ظلم و تشدد کے بارے میں آگاہ کیا۔ ایم کیو ایم کے قائد نے سابق صدر کو بتایاکہ تین سیکٹر ارکان سمیت ایم کیو ایم کے 45کارکنان اپنی گرفتاریوں کے بعد سے لاپتہ ہیں اور کہاں ہیں اس بارے میں کوئی نہیں جانتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ایم کیو ایم کے کارکنوں کے گھروں پر غیرقانونی چھاپے ماررہے ہیں۔ آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو انتقام کا نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی اور الطاف حسین کو ذمہ دار حکام کے خلاف کاررروائی کا یقین دلایا اور کہا کہ وہ اس سلسلے میں سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ سے بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں رہنے والے تمام سندھی ہیں اور انہیں صوبے کی خوشحالی کیلئے ملکر کام کرنا چاہئے۔ قبل ازیں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ کے رہنمائوں نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پارٹی کے 24کارکنان لاپتہ ہوگئے۔ اس موقع پر موجود رابطہ کمیٹی کے ارکان حیدر عباس رضوی، امین الحق، عامر خان، واسع جلیل، وسیم اختر، عادل خان، اسلم آفریدی اور عبدالرئوف صدیقی نے سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکاروں کی جانب سے حراست میں لئے جانے والے کارکنوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس اطلاع کا بھی دعویٰ کیا کہ علاقہ ایس ایچ او، ایس پی صاحبان نے سویلین افراد پر مشتمل اپنی ٹیمیں تشکیل دے رکھی ہیں جو ایم کیو ایم کے کارکنوں کو اٹھانے پر مامور ہیں۔ ہمارے لوگوں کو تھانوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری آپریشن میں ان کےکارکنوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور مزید کہا کہ 4کارکن تو پولیس حراست میں جاں بحق ہوئے۔ ایم کیو ایم کے رہنمائوں نے پولیس پر کراچی کے شہریوں سے یومیہ 20 کروڑ روپے بھتہ وصول کرنے کا بھی الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیوں، ماوراء عدالت قتل اور کارکنوں پر تشدد کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائی۔ اعلیٰ اور ماتحت عدلیہ سے بھی رابطے کئے لیکن ہماری کوئی نہیں سن رہا۔ ایم کیو ایم نے وزیراعظم، آرمی چیف اور وزیر داخلہ سے درخواست کی کہ وہ کراچی میں ایم کیو ایم کی خواتین ونگ کی عہدیداروں اور ارکان کے بارے میں رینجرز کی جانب سے معلومات اکٹھا کئے جانے کا نوٹس لیں۔ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے مذکورہ شخصیات کو لکھے گئے خط میں گہری تشویش اور خوف کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اغوا برائے تاوان کی وارداتیں، ڈکیتیاں، موبائل فون اور گاڑیاں چھیننے کی وارداتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے، یہ بھی بڑی افسوسناک بات ہے کہ پولیس دہشت گردوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کررہی، جو کھلے عام پولیس اہلکاروں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کے بجائے قانون نافذ کرنے والے اردو بولنے والوں کی آبادیوں پر چھاپے مار رہے ہیں، جہاں سے بے قصور لوگوں کو پکڑکر ان سے ایم کیو ایم خواتین ونگ کی ارکان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ پولیس اور رینجرز بے قصور لوگوں اور خواتین کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے کیوں خواہاں ہیں حالانکہ انہیں جرائم پیشہ عناصر کی فہرستیں تیار کرنی چاہئیں اور یہ کہ وہ مذکورہ فہرست کس کے احکامات پر تیار کررہے ہیں۔