Latest

برطانیہ،لیبر ارکان نے نقاب پر پابندی کا بل ناکام بنادیا

برطانیہ،لیبر ارکان نے نقاب پر پابندی کا بل ناکام بنادیا
لندن (رپورٹ: آصف ڈار) برطانیہ میں نقاب پر پابندی کی قانون سازی کا عمل رک گیا ہے اور لیبر ارکان پارلیمنٹ نے پابندی کے اس بل کو دوسری خواندگی کے دوران ناکام بنادیا ہے۔ برطانیہ میں نقاب پر پابندی کے سلسلے میں حکمران کنزرویٹو پارٹی کے ایم پی فلپ ہولو بون نے پرائیویٹ ممبر بل پیش کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان پر ان کے حلقے اور سارے ملک کے عوام کا دبائو ہے کہ وہ نقاب پر پابندی لگانے کے لیے قانون سازی کرائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ اب لوگوں کی بڑی تعداد عوامی اجتماعات کے مقامات پر نقاب پہن کر جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے قوم غلط سمت کی طرف جارہی ہے۔ اس لیے برطانیہ میں نقاب پر پابدی ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی اجتماعات پر نقاب ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی اجتماعات پر نقاب پہن کر آنے کو جرم قرار دیا جائے۔ اس بل کی مخالفت کرنے والوں میں شیڈو چانسلر صادق خان ایم پی، روشن آرا ایم پی، کیتھ واز ایم پی، سر جیرالڈ کافمین اور دیگر کئی لیبر ارکان نے اس بل کی مخالفت کی۔ صادق خان ایم پی نے کہا کہ ٹوری رکن پارلیمنٹ کی طرف سے پیش ہونے والا یہ بل اپنی موت آپ مر گیا ہے اور اب اس کے قانون بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے لیبر ارکان کے ساتھ لابی کرکے اس بل کو ناکام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی عورتیں اپنے لباس کے ساتھ نقاب پہننے کا انتخاب کرتی ہیں۔ ان کی اس چوائس کو جرم قرار دینا درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کی پارٹی کے دوسرے ارکان آئندہ بھی کمیونٹی کو تقسیم کرنے کی اس قسم کی سازشوں کو ناکام بنادیں گے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی عوام کی بھاری اکثریت کمیونٹیز تعلقات کو مضبوط بنانے کے حق میں اور وہ نہیں چاہتی کہ کسی بھی معاملے میں کمیونٹیز کو تقسیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے سارے عوام کو ہم آہنگی کی فضا کو برقرار رکھنا چاہیے اور امتیاز سے پاک معاشرے کے حق میں اپنی جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔


برطانیہ،لیبر ارکان نے نقاب پر پابندی کا بل ناکام بنادیا

برطانیہ،لیبر ارکان نے نقاب پر پابندی کا بل ناکام بنادیا
لندن (رپورٹ: آصف ڈار) برطانیہ میں نقاب پر پابندی کی قانون سازی کا عمل رک گیا ہے اور لیبر ارکان پارلیمنٹ نے پابندی کے اس بل کو دوسری خواندگی کے دوران ناکام بنادیا ہے۔ برطانیہ میں نقاب پر پابندی کے سلسلے میں حکمران کنزرویٹو پارٹی کے ایم پی فلپ ہولو بون نے پرائیویٹ ممبر بل پیش کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان پر ان کے حلقے اور سارے ملک کے عوام کا دبائو ہے کہ وہ نقاب پر پابندی لگانے کے لیے قانون سازی کرائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ اب لوگوں کی بڑی تعداد عوامی اجتماعات کے مقامات پر نقاب پہن کر جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے قوم غلط سمت کی طرف جارہی ہے۔ اس لیے برطانیہ میں نقاب پر پابدی ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی اجتماعات پر نقاب ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی اجتماعات پر نقاب پہن کر آنے کو جرم قرار دیا جائے۔ اس بل کی مخالفت کرنے والوں میں شیڈو چانسلر صادق خان ایم پی، روشن آرا ایم پی، کیتھ واز ایم پی، سر جیرالڈ کافمین اور دیگر کئی لیبر ارکان نے اس بل کی مخالفت کی۔ صادق خان ایم پی نے کہا کہ ٹوری رکن پارلیمنٹ کی طرف سے پیش ہونے والا یہ بل اپنی موت آپ مر گیا ہے اور اب اس کے قانون بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے لیبر ارکان کے ساتھ لابی کرکے اس بل کو ناکام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی عورتیں اپنے لباس کے ساتھ نقاب پہننے کا انتخاب کرتی ہیں۔ ان کی اس چوائس کو جرم قرار دینا درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کی پارٹی کے دوسرے ارکان آئندہ بھی کمیونٹی کو تقسیم کرنے کی اس قسم کی سازشوں کو ناکام بنادیں گے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی عوام کی بھاری اکثریت کمیونٹیز تعلقات کو مضبوط بنانے کے حق میں اور وہ نہیں چاہتی کہ کسی بھی معاملے میں کمیونٹیز کو تقسیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے سارے عوام کو ہم آہنگی کی فضا کو برقرار رکھنا چاہیے اور امتیاز سے پاک معاشرے کے حق میں اپنی جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔