Latest

بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دینے کی تجویز ختم ہوگئی، وزیر تجارت

بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دینے کی تجویز ختم ہوگئی، وزیر تجارت
لاہور ( این این آئی) وفاقی وزارت تجارت خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ بھارت کو اس وقت تک تجارتی شراکت دار کا رتبہ نہیں دیا جا سکتا جب تک وہ کپڑے کی پاکستانی مصنوعات پر عائد ٹیکسوں کی شرح میں نمایاں کمی کا وعدہ نہیں کرتا،بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کی تجویز تو ختم ہو چکی اب اس کے ساتھ غیر امتیازی تجارتی روابط والے ملک کا درجہ (این ڈی ایم اے)دئیے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کو اپنے انٹر ویو میں وزیر تجارت نے واضح کیا کہ اس کی منظوری بھی اسی صورت دی جائے گی جب بھارت پاکستانی مصنوعات، خاص طور پر کپڑے کی صنعت پر عائد ڈیوٹیز میں نمایاں کمی کرے۔خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ یہ درجہ دینے کے لیے وزارتی سطح پر تمام کام مکمل ہو چکا ہے،اب یہ معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے پیش ہونا ہے جس کی رسمی منظوری ضروری ہے۔ جیسے ہی بھارت کی جانب سے ہمیں اپنے تحفظات پر مثبت جواب ملے گا کابینہ بھارت کے لیے اس خصوصی مراعاتی رتبے کی منظوری دیدے گی۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس وقت پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات پر 80 سے 120 فیصد تک ڈیوٹیز عائد کر رکھی ہیں جو ناقابل قبول ہیں۔


بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دینے کی تجویز ختم ہوگئی، وزیر تجارت

بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دینے کی تجویز ختم ہوگئی، وزیر تجارت
لاہور ( این این آئی) وفاقی وزارت تجارت خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ بھارت کو اس وقت تک تجارتی شراکت دار کا رتبہ نہیں دیا جا سکتا جب تک وہ کپڑے کی پاکستانی مصنوعات پر عائد ٹیکسوں کی شرح میں نمایاں کمی کا وعدہ نہیں کرتا،بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کی تجویز تو ختم ہو چکی اب اس کے ساتھ غیر امتیازی تجارتی روابط والے ملک کا درجہ (این ڈی ایم اے)دئیے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کو اپنے انٹر ویو میں وزیر تجارت نے واضح کیا کہ اس کی منظوری بھی اسی صورت دی جائے گی جب بھارت پاکستانی مصنوعات، خاص طور پر کپڑے کی صنعت پر عائد ڈیوٹیز میں نمایاں کمی کرے۔خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ یہ درجہ دینے کے لیے وزارتی سطح پر تمام کام مکمل ہو چکا ہے،اب یہ معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے پیش ہونا ہے جس کی رسمی منظوری ضروری ہے۔ جیسے ہی بھارت کی جانب سے ہمیں اپنے تحفظات پر مثبت جواب ملے گا کابینہ بھارت کے لیے اس خصوصی مراعاتی رتبے کی منظوری دیدے گی۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس وقت پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات پر 80 سے 120 فیصد تک ڈیوٹیز عائد کر رکھی ہیں جو ناقابل قبول ہیں۔