Latest

جنگجوئوں سے گزشتہ 10معاہدے فوج نے ہی کیے،2برقرار ہیں

جنگجوئوں سے گزشتہ 10معاہدے فوج نے ہی کیے،2برقرار ہیں
اسلام آباد (رپورٹ:عثمان منظور) پاک فوج گزشتہ دس سال کے دوران بالواسطہ یا بلاواسطہ طالبان سمیت عسکریت پسندوں کے ساتھ معاہدوں میں ملوث رہی ہے، ان میں سے دو معاہدے ہنوز برقرار اور کام کر رہے ہیں۔ اسی کے پس منظر میں وزیراعظم نوازشریف نے حکومتی کمیٹی کی سفارش پر فوج کو بھی طالبان سے مذاکرات میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 2006ء میں فوج کا شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر اور وانا جنوبی وزیرستان میں مولوی نذیر گروپ کے ساتھ معاہدے اب بھی برقرار ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان دونوں گروپوں کا کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ 2009ء میں پاک فوج نے اے این پی اور پیپلز پارٹی کے ذریعے مالاکنڈ کے عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات شروع کئے تھے لیکن فوج کو وہاں جلد ہی فوجی آپریشن کرنا پڑا۔ صوفی محمد اور مولوی فضل اللہ کے ساتھ بھی معاہدے کئے گئے۔ فضل اللہ طالبان کے موجودہ سربراہ ہیں۔ فاٹا میں فوج نے بعض اوقات عسکریت پسندوں سے براہ راست مذاکرات کئے اور دیگر مواقع پر قبائلی عمائدین اور علماء کے ذریعے ہو عسکریت پسندوں کو قائل کرنے کی کوششیں کیں۔ تفصیلات کے مطابق اپریل 2004ء میں حکومت نے جنوبی وزیرستان عسکریت پسندوں سے پہلا امن معاہدہ کیا جس پر کمانڈر نیک محمد وزیر نے دستخط کئے لیکن جون 2004ء میں امریکی ڈرون حملے میں نیک محمد کی ہلاکت کے ساتھ ہی یہ معاہدہ دم توڑ گیا۔ دوسرا معاہدہ فروری 2005ء میں نیک محمد کے جانشین بیت اللہ محسود سے کیا گیا جس سے خطے میں نسبتاً حالات بہتر ہوئے۔ اسی طرح کا معاہدہ شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر سے بھی کیا گیا۔ تاہم یہ تمام معاہدے خونریزی کے خاتمے میں کوئی مددگار ثابت نہ ہوسکے۔ طالبان سے جاری دو معاہدے جولائی 2007ء میں حکومت کے لال مسجد آپریشن کے نتیجے میں ساقط ہوگئے اور ملک میں خودکش حملوں میں دس گنا اضافہ ہوگیا۔ سوات میں صوفی محمد اور مولوی فضل اللہ کے ساتھ 2009ء میں فوج نے اے این پی اور پیپلز پارٹی کے ذریعے دو معاہدے کئے اور نظام عدل کا قانون جاری ہوا لیکن یہ معاہدے چار فوجی اہلکاروں کی گرفتاری اور طالبان کے ہاتھوں ان کے قتل کے نتیجے میں ٹوٹ گئے۔ طالبان سے مذاکرات کیلئے موجودہ حکومتی کمیٹی کے ایک رکن رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ فوج کو شامل کئے بغیر طالبان سے مذاکرات بیکار کی شق ہوگی۔ اگر طالبان کے قیدیوں کی رہائی کیلئے بات ہوگی تو وہ فوج کی حراست میں ہیں۔ کوئی علاقہ خالی کرنا ہو تو فوج ہی نے اس کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ مقتولین کے ورثاء کو معاوضہ کی ادائیگی بھی فوج کو شامل کئے بغیر ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شروع میں حکومتی کمیٹی کا غلط اندازہ لگایا گیا اور مذاکرات کی کامیابی کا کم امکان تھا لیکن کمیٹی ہی کی وجہ سے طالبان براہ راست مذاکرات میں شامل ہوئے جس کے نتیجے میں پہلی بار غیر مشروط جنگ بندی ممکن ہوسکی۔ طالبان نے نہ صرف آئین کو قبول کیا بلکہ اور جو ارکان پارلیمینٹ رہے ان پر اعتماد بھی کیا۔ حکومت طالبان سے براہ راست مذاکرات کرتی تو یہ مرحلہ نہ آتا۔


جنگجوئوں سے گزشتہ 10معاہدے فوج نے ہی کیے،2برقرار ہیں

جنگجوئوں سے گزشتہ 10معاہدے فوج نے ہی کیے،2برقرار ہیں
اسلام آباد (رپورٹ:عثمان منظور) پاک فوج گزشتہ دس سال کے دوران بالواسطہ یا بلاواسطہ طالبان سمیت عسکریت پسندوں کے ساتھ معاہدوں میں ملوث رہی ہے، ان میں سے دو معاہدے ہنوز برقرار اور کام کر رہے ہیں۔ اسی کے پس منظر میں وزیراعظم نوازشریف نے حکومتی کمیٹی کی سفارش پر فوج کو بھی طالبان سے مذاکرات میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 2006ء میں فوج کا شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر اور وانا جنوبی وزیرستان میں مولوی نذیر گروپ کے ساتھ معاہدے اب بھی برقرار ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان دونوں گروپوں کا کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ 2009ء میں پاک فوج نے اے این پی اور پیپلز پارٹی کے ذریعے مالاکنڈ کے عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات شروع کئے تھے لیکن فوج کو وہاں جلد ہی فوجی آپریشن کرنا پڑا۔ صوفی محمد اور مولوی فضل اللہ کے ساتھ بھی معاہدے کئے گئے۔ فضل اللہ طالبان کے موجودہ سربراہ ہیں۔ فاٹا میں فوج نے بعض اوقات عسکریت پسندوں سے براہ راست مذاکرات کئے اور دیگر مواقع پر قبائلی عمائدین اور علماء کے ذریعے ہو عسکریت پسندوں کو قائل کرنے کی کوششیں کیں۔ تفصیلات کے مطابق اپریل 2004ء میں حکومت نے جنوبی وزیرستان عسکریت پسندوں سے پہلا امن معاہدہ کیا جس پر کمانڈر نیک محمد وزیر نے دستخط کئے لیکن جون 2004ء میں امریکی ڈرون حملے میں نیک محمد کی ہلاکت کے ساتھ ہی یہ معاہدہ دم توڑ گیا۔ دوسرا معاہدہ فروری 2005ء میں نیک محمد کے جانشین بیت اللہ محسود سے کیا گیا جس سے خطے میں نسبتاً حالات بہتر ہوئے۔ اسی طرح کا معاہدہ شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر سے بھی کیا گیا۔ تاہم یہ تمام معاہدے خونریزی کے خاتمے میں کوئی مددگار ثابت نہ ہوسکے۔ طالبان سے جاری دو معاہدے جولائی 2007ء میں حکومت کے لال مسجد آپریشن کے نتیجے میں ساقط ہوگئے اور ملک میں خودکش حملوں میں دس گنا اضافہ ہوگیا۔ سوات میں صوفی محمد اور مولوی فضل اللہ کے ساتھ 2009ء میں فوج نے اے این پی اور پیپلز پارٹی کے ذریعے دو معاہدے کئے اور نظام عدل کا قانون جاری ہوا لیکن یہ معاہدے چار فوجی اہلکاروں کی گرفتاری اور طالبان کے ہاتھوں ان کے قتل کے نتیجے میں ٹوٹ گئے۔ طالبان سے مذاکرات کیلئے موجودہ حکومتی کمیٹی کے ایک رکن رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ فوج کو شامل کئے بغیر طالبان سے مذاکرات بیکار کی شق ہوگی۔ اگر طالبان کے قیدیوں کی رہائی کیلئے بات ہوگی تو وہ فوج کی حراست میں ہیں۔ کوئی علاقہ خالی کرنا ہو تو فوج ہی نے اس کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ مقتولین کے ورثاء کو معاوضہ کی ادائیگی بھی فوج کو شامل کئے بغیر ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شروع میں حکومتی کمیٹی کا غلط اندازہ لگایا گیا اور مذاکرات کی کامیابی کا کم امکان تھا لیکن کمیٹی ہی کی وجہ سے طالبان براہ راست مذاکرات میں شامل ہوئے جس کے نتیجے میں پہلی بار غیر مشروط جنگ بندی ممکن ہوسکی۔ طالبان نے نہ صرف آئین کو قبول کیا بلکہ اور جو ارکان پارلیمینٹ رہے ان پر اعتماد بھی کیا۔ حکومت طالبان سے براہ راست مذاکرات کرتی تو یہ مرحلہ نہ آتا۔