Latest

حکومتی غیرسنجیدگی ناقابل برداشت ہے، آئینی مجبوری نہ ہوتی تو لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے خود نکل پڑتے، سپریم کورٹ

حکومتی غیرسنجیدگی ناقابل برداشت ہے، آئینی مجبوری نہ ہوتی تو لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے خود نکل پڑتے، سپریم کورٹ
اسلام آباد (ایجنسیاں) سپریم کورٹ میں مالاکنڈ حراستی مرکز سے اٹھائے گئے 35 لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آئینی اور قانونی مجبوری حائل نہ ہوتی تو لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے خود تفتیش کے لئے نکل کھڑے ہوتے۔ حکومت اور حساس ادارے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے تو ملک کے حالات آج ایسے نہ ہوتے۔ سابق چیف جسٹس کہتے تھے کہ حکومتی ادارے محض تو چل میں چل کے سوا اور کوئی کام نہیں کرتے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کی غیر سنجیدگی ناقابل برداشت ہے۔ حالات یہ ہیں کہ ایک شہری لاپتہ ہوگیا اس کے حوالے سے ایف آئی آر تک درج نہیں کی گئی۔ وفاقی اور صوبائی حکومت اگر اپنے شہریوں کی آزادی کا تحفظ نہیں کر سکتی تو پھر اسے چاہئے کہ تمام لاپتہ افراد کو تیسرے درجے کا شہری قرار دیکر تحریری طور پر کہہ دے کہ ان کے کوئی بنیادی انسانی حقوق نہیں ہیں۔عدالت نے سماعت پیر 10مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا۔ مالاکنڈ حراستی مرکز سے فوج کی جانب سے مبینہ طور پر اٹھائے گئے 35 لاپتہ افراد کے حوالے سے مقدمے کی سماعت جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نےجمعرات کو کی۔ اس دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل شاہ خاور، آمنہ مسعود جنجوعہ، درخواست گزار محبت شاہ، وزارت دفاع کے ڈائریکٹر لیگل محمد عرفان قادر اور کے پی کے وزارت داخلہ کے نمائندے پولیس حکام پیش ہوئے۔دریں ا ثنا سپریم کورٹ نے ڈاکٹر عابد شریف اور منصور مہد ی لاپتہ کیس کی سماعت تین ہفتوں تک ملتوی کردی۔