Latest

دہشت گردوں سے مذاکرات کا کوئی جواز نہیں، افتخار چوہدری

دہشت گردوں سے مذاکرات کا کوئی جواز نہیں، افتخار چوہدری
جہلم (نمائندہ جنگ) سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کا اسلام اور انسانیت سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی قانون کو ہاتھ میں لے کر معصوم شہریوں کو قتل کرنے والوں سے مذاکرات کرنے کا کوئی آئینی جواز ہے ریاست اپنا آئینی فرض ادا کرتے ہوئے دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچا کر قانون کی حکمرانی قائم کرے اور عوام کو جان ومال کا تحفظ فراہم کرے ،وہ اسلام آباد ضلع کچہری میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ ملک رفاقت حسین اعوان اور ممتاز قانون دان سید تنویر حیدر کے آبائی دیہات صبور کھاریاں اور قاضی باقر سرائے عالمگیر میں شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کر رہے تھے ،اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر نصیر احمد کیانی ،جنرل سیکرٹری چوہدری نعیم اللہ گجر ،سابق صدر راولپنڈی بار شیخ احسن، سابقہ صدور حافظ سمیع کھوکھر ایڈوکیٹ ،شیخ محمد اصغرایڈوکیٹ ،ایڈوکیٹ سپریم کورٹ اسد راجپوت سمیت ضلع جہلم ،گجرات اور کھاریاں کے وکلاء کی کثیر تعداد بھی ان کے ہمراہ تھی، سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے شہید رفاقت حسین اعوان کے بھائی کرنل صفدر حسین اعوان، 13 سالہ بیٹے افراسیاب اعوان اور شہید سید تنویر حیدر کے بیٹے علی عون اور علی زین سے ملاقات اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب دہشت گردی کا یہ سلسلہ بند ہونا چاہیئے، 50 ہزار عام شہری اور سیکورٹی فورسز کے سینکڑوں افسران اور جوانوں سمیت عدلیہ کے ججز اور وکلاء کی بڑی تعداد بھی درندوں کے ہاتھوں شہید ہو چکی ہے لیکن ریاست دہشت گردی کے ناسور کو ختم کر کے امن قائم کرنے میں ناکام ہے جو کہ قابل افسوس ہے۔


دہشت گردوں سے مذاکرات کا کوئی جواز نہیں، افتخار چوہدری

دہشت گردوں سے مذاکرات کا کوئی جواز نہیں، افتخار چوہدری
جہلم (نمائندہ جنگ) سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کا اسلام اور انسانیت سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی قانون کو ہاتھ میں لے کر معصوم شہریوں کو قتل کرنے والوں سے مذاکرات کرنے کا کوئی آئینی جواز ہے ریاست اپنا آئینی فرض ادا کرتے ہوئے دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچا کر قانون کی حکمرانی قائم کرے اور عوام کو جان ومال کا تحفظ فراہم کرے ،وہ اسلام آباد ضلع کچہری میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ ملک رفاقت حسین اعوان اور ممتاز قانون دان سید تنویر حیدر کے آبائی دیہات صبور کھاریاں اور قاضی باقر سرائے عالمگیر میں شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کر رہے تھے ،اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر نصیر احمد کیانی ،جنرل سیکرٹری چوہدری نعیم اللہ گجر ،سابق صدر راولپنڈی بار شیخ احسن، سابقہ صدور حافظ سمیع کھوکھر ایڈوکیٹ ،شیخ محمد اصغرایڈوکیٹ ،ایڈوکیٹ سپریم کورٹ اسد راجپوت سمیت ضلع جہلم ،گجرات اور کھاریاں کے وکلاء کی کثیر تعداد بھی ان کے ہمراہ تھی، سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے شہید رفاقت حسین اعوان کے بھائی کرنل صفدر حسین اعوان، 13 سالہ بیٹے افراسیاب اعوان اور شہید سید تنویر حیدر کے بیٹے علی عون اور علی زین سے ملاقات اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب دہشت گردی کا یہ سلسلہ بند ہونا چاہیئے، 50 ہزار عام شہری اور سیکورٹی فورسز کے سینکڑوں افسران اور جوانوں سمیت عدلیہ کے ججز اور وکلاء کی بڑی تعداد بھی درندوں کے ہاتھوں شہید ہو چکی ہے لیکن ریاست دہشت گردی کے ناسور کو ختم کر کے امن قائم کرنے میں ناکام ہے جو کہ قابل افسوس ہے۔