Latest

رانابھگوان داس کو چیف الیکشن کمشنر بنانے پر حکومت اپوزیشن متفق

رانابھگوان داس کو چیف الیکشن کمشنر بنانے پر حکومت اپوزیشن متفق
اسلام آباد (طاہرخلیل) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر اتفاق ہوگیا ہے اور اس عہدے کےلئے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج رانابھگوان داس کے نام پر اتفاق ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے مقابلے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پچھلے کئی دنوں سے پس پردہ مشاورت جاری تھی جو جمعرات کو حتمی نتیجے پر پہنچ گئی۔ وفاقی وزیرخزانہ اسحق ڈار نے جمعرات کو اپوزیشن لیڈر خورشیدشاہ سے رابطہ کرکے جسٹس (ر) بھگوان داس کا نام اپوزیشن نے ہی تجویز کیا تھا قبل ازیں چیئرمین نیب کی تقرری کےلئے ان کا نام سنجیدگی سے زیرغور رہا ہے تاہم رانابھگوان داس نے خود چیئرمین نیب بننے سے معذرت کرلی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس (ر) رانابھگوان داس کی چیف الیکشن کمشنر تقرری کےلئے قانون میں ترمیم کرنا پڑے گی۔ رانابھگوان داس وفاقی پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین رہے ہیں موجودہ قانون کے مطابق وہ دوسال تک کوئی دوسرا عہدہ لینے کے مجاز نہیں قانون میں ترامیم کی جائے گی اور انہیں چیف الیکشن کمشنر بنانے کےلئے پابندی کو ختم کرنا پڑےگا۔ حکومت کی جانب سے قانون میں ترمیم آج قومی اسمبلی میں پیش ہونے کا امکان ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم کے مستعفی ہونے کے بعد7 ماہ سے خالی تھا اور جسٹس ناصرالملک قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے فرائض ادا کررہے ہیں سپریم کورٹ نے اس کا نوٹس لیا تھا اور حکومت کو فوری طورپر متسقل چیف الیکشن کمشنر مقرر کرے۔ سپریم کورٹ میں آج اس کیس کی دوبارہ سماعت ہونا ہے۔ حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت کارروائی کو جلدی میں مکمل کیا۔


رانابھگوان داس کو چیف الیکشن کمشنر بنانے پر حکومت اپوزیشن متفق

رانابھگوان داس کو چیف الیکشن کمشنر بنانے پر حکومت اپوزیشن متفق
اسلام آباد (طاہرخلیل) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر اتفاق ہوگیا ہے اور اس عہدے کےلئے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج رانابھگوان داس کے نام پر اتفاق ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے مقابلے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پچھلے کئی دنوں سے پس پردہ مشاورت جاری تھی جو جمعرات کو حتمی نتیجے پر پہنچ گئی۔ وفاقی وزیرخزانہ اسحق ڈار نے جمعرات کو اپوزیشن لیڈر خورشیدشاہ سے رابطہ کرکے جسٹس (ر) بھگوان داس کا نام اپوزیشن نے ہی تجویز کیا تھا قبل ازیں چیئرمین نیب کی تقرری کےلئے ان کا نام سنجیدگی سے زیرغور رہا ہے تاہم رانابھگوان داس نے خود چیئرمین نیب بننے سے معذرت کرلی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس (ر) رانابھگوان داس کی چیف الیکشن کمشنر تقرری کےلئے قانون میں ترمیم کرنا پڑے گی۔ رانابھگوان داس وفاقی پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین رہے ہیں موجودہ قانون کے مطابق وہ دوسال تک کوئی دوسرا عہدہ لینے کے مجاز نہیں قانون میں ترامیم کی جائے گی اور انہیں چیف الیکشن کمشنر بنانے کےلئے پابندی کو ختم کرنا پڑےگا۔ حکومت کی جانب سے قانون میں ترمیم آج قومی اسمبلی میں پیش ہونے کا امکان ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم کے مستعفی ہونے کے بعد7 ماہ سے خالی تھا اور جسٹس ناصرالملک قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے فرائض ادا کررہے ہیں سپریم کورٹ نے اس کا نوٹس لیا تھا اور حکومت کو فوری طورپر متسقل چیف الیکشن کمشنر مقرر کرے۔ سپریم کورٹ میں آج اس کیس کی دوبارہ سماعت ہونا ہے۔ حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت کارروائی کو جلدی میں مکمل کیا۔


رانابھگوان داس کو چیف الیکشن کمشنر بنانے پر حکومت اپوزیشن متفق

رانابھگوان داس کو چیف الیکشن کمشنر بنانے پر حکومت اپوزیشن متفق
اسلام آباد (طاہرخلیل) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر اتفاق ہوگیا ہے اور اس عہدے کےلئے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج رانابھگوان داس کے نام پر اتفاق ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے مقابلے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پچھلے کئی دنوں سے پس پردہ مشاورت جاری تھی جو جمعرات کو حتمی نتیجے پر پہنچ گئی۔ وفاقی وزیرخزانہ اسحق ڈار نے جمعرات کو اپوزیشن لیڈر خورشیدشاہ سے رابطہ کرکے جسٹس (ر) بھگوان داس کا نام اپوزیشن نے ہی تجویز کیا تھا قبل ازیں چیئرمین نیب کی تقرری کےلئے ان کا نام سنجیدگی سے زیرغور رہا ہے تاہم رانابھگوان داس نے خود چیئرمین نیب بننے سے معذرت کرلی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس (ر) رانابھگوان داس کی چیف الیکشن کمشنر تقرری کےلئے قانون میں ترمیم کرنا پڑے گی۔ رانابھگوان داس وفاقی پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین رہے ہیں موجودہ قانون کے مطابق وہ دوسال تک کوئی دوسرا عہدہ لینے کے مجاز نہیں قانون میں ترامیم کی جائے گی اور انہیں چیف الیکشن کمشنر بنانے کےلئے پابندی کو ختم کرنا پڑےگا۔ حکومت کی جانب سے قانون میں ترمیم آج قومی اسمبلی میں پیش ہونے کا امکان ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم کے مستعفی ہونے کے بعد7 ماہ سے خالی تھا اور جسٹس ناصرالملک قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے فرائض ادا کررہے ہیں سپریم کورٹ نے اس کا نوٹس لیا تھا اور حکومت کو فوری طورپر متسقل چیف الیکشن کمشنر مقرر کرے۔ سپریم کورٹ میں آج اس کیس کی دوبارہ سماعت ہونا ہے۔ حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت کارروائی کو جلدی میں مکمل کیا۔