Latest

رانا بھگوان داس کی شکل میں ایک اور فخرو بھائی منظر پر آرہے ہیں؟

رانا بھگوان داس کی شکل میں ایک اور فخرو بھائی منظر پر آرہے ہیں؟
دبئی (شاہین صہبائی) 60؍ ملین ڈالرز کا ایک اور سوال ان اطلاعات کے ساتھ سامنے آ رہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن نے رانا بھگوان داس کو نیا چیف الیکشن کمشنر لگانے پر اتفاق کرلیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ: کیا ہم فخرو بھائی کی کہانی ایک مرتبہ پھر دہرانے جا رہے ہیں؟ میں ایسا اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ رانا صاحب نہایت ہی ایماندار اور باکردار شخص ہیں، وہ ایک شاندار اور بہادر جج رہ چکے ہیں، وہ معزز اور قابل احترام ہیں، انہوں نے اپنی کام کرنے کی عمر مکمل کرلی ہے اور ان کا تعلق اقلیتی برادری سے بھی ہے۔ کیا یہ تمام خصوصیات فخر الدین جی ابراہیم میں نہیں تھیں، جنہوں نے بطور چیف الیکشن کمشنر نقائص سے بھرپور الیکشن کے عمل کی قیادت کی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی شاندار ساکھ کے باوجود وہ ان افراد کو کنٹرول نہ کرپائے جنہیں ان کے سامنے الیکشن کمیشن آف پاکستان کا ممبر بنایا گیا اور وہ اس بات کو یقینی نہیں بنا سکے کہ 2013؁ کے عام انتخابات کے دوران تمام طریقہ کار اور اصولوں پر عمل ہوسکے۔ 35؍ پنچر لگانے کی کہانی اپنی جگہ، لیکن کیا یہ فخرو بھائی نہیں تھے جنہیں الیکشن کمیشن کے دیگر ممبران کے برابر بنا دیا گیا اور جو خود ان غلطیوں کی نشاندہی نہ کرسکے جو ان کی اپنی ناک کے نیچے ہو رہی تھیں۔ پنچر لگانے کی کہانی کے ثبوت سامنے آنے چاہئیں تاکہ عوام بھی دیکھ سکیں۔ یہ زرداری ۔ نواز منصوبہ سازوں کی جانب سے بنائی جانے والی زبردست چال تھی جس میں فخرو بھائی کی ساکھ اور ان کا نام استعمال کیا گیا اور انہیں بغیر اسٹیرنگ والی ایک ایسی عفریت صفت گاڑی میں سوار کرا دیا گیا جسے الیکشن کمیشن آف پاکستان کہتے ہیں۔ یہ ان کی عادت تھی کہ جب معاملات سخت ہوجاتے تھے تو وہ دبائو میں آجاتے تھے اور جب ان پر تنقید کی جاتی تھی تو وہ مستعفی ہوجاتے، وہ بڑی ہی آسانی کے ساتھ باہر نکل گئے لیکن یہ سب اس وقت کیا جب کافی نقصان ہوچکا تھا۔ اب یہاں منظر نامہ پر ایک اور فخرو بھائی آ رہے ہیں۔ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ رانا صاحب وہ کچھ نہیں کریں گے جو فخرو بھائی نے کیا۔ کیا وہ موجودہ الیکشن کمیشن کو تحلیل کرنے پر اصرار کریں گےاور اس کے نئے ممبران مقرر کریں گے، کیا وہ ایسے لوگوں کو لائیں گے جو باصلاحیت اور اچھی ساکھ کے ہیں؟ کیا وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ادارہ درست انداز میں چل رہا ہے؟ فخرو بھائی کے تحت ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ درآمد شدہ سیاہی استعمال ہوگی جس کی نادرا سے تصدیق کرائی جا سکتی ہے۔ فخرو بھائی کو علم نہیں تھا، یا انہیں پروا نہیں تھی یا پھر وہ اس بات کو سنبھال ہی نہیں پائے کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔ کئی مہینوں بعد چوہدری نثار علی خان نے ہمیں بتایا کہ ایسی کوئی سیاہی استعمال نہیں ہوئی لہٰذا نادرا سے اس بات کی کوئی تصدیق نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا کیا رانا بھگوان داس نادرا اور تصدیق کے عمل کے معاملات سنبھالیں گے جو اب بھی زیر التواء ہیں؟ میں نے امریکی محکمہ خارجہ کی کچھ خفیہ دستاویزات دیکھی ہیں جنہیں 22؍ ستمبر 2012؁ کو عوام کیلئے کھول دیا گیا اور امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کی جانب سے لکھے گئے ایک مراسلے کو پڑھا جس میں انہوں نے امریکا کی جانب سے اس مطالبہ پر بات کی تھی کہ حکومت پاکستان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکریٹری کو نہیں ہٹایا۔ یہ غیر ملکی حکومتوں کی جانب سے ہمارے الیکشن عمل میں مداخلت کی ایک انتہائی گہری مثال ہے۔ لہٰذا اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ، عبوری حکومت، سیاسی جماعتوں کے نامزد کردہ نگران حکمران، اور الیکشن لڑنے والوں کے نامزد کردہ افراد، جو الیکشن کمیشن میں ممبر بن کر بیٹھتے ہیں، ان کی دلچسپی اور مداخلت کا عالم کیا ہوگا۔ ہمیں ایک اور فخرو بھائی نہیں چاہئے، لہٰذا رانا بھگوان داس کو ایسی پیشکش مسترد کرنا چاہئے اور اگر نہیں تو انہیں یہ واضح کرنا چاہئے کہ وہ کس طرح ان بھیڑیوں کو قابو کریں گے جو چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے ارد گرد منڈلاتے رہتے ہیں۔ افسوس ہوتا ہے ان پر۔