Latest

سانحہ اسلام آباد، سول انتظامیہ اورپولیس کی اہلیت پر سوالات

سانحہ اسلام آباد، سول انتظامیہ اورپولیس کی اہلیت پر سوالات
اسلام آباد(شکیل انجم)وفاقی دارالحکومت میں 3مارچ کاہولناک واقعہ سول انتظامیہ اور وفاقی پولیس کی نااہلیت اورعدم قابلیت کا بھرپور اظہار ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ افسران ایک اعلیٰ ملکی شخصیت کی چوائس ہیں، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد شیر دل ایک اعلیٰ شخصیت کے ساتھ رہے ہیں جبکہ ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کو ایک اہم شخصیت کے بیٹے کی سفارش پر پنجاب سے وفاقی دارالحکومت لایا گیا ہے تاہم دونوں افسران اس اہم امتحان میں اپنی صلاحیت و اہلیت کا مظاہرہ کرنے میں بری طرح ناکام رہے، سرکاری ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ سانحہ اسلام آباد سیکورٹی اداروں اور انٹیلی جنس وارننگ کے باوجود رونما ہوا حیران کن طور پر یہ دونوں افسران ، جو سیکیورٹی کے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں، سیکیورٹی کوتاہی کا تعین کرنے کیلئے انکوائری افسر مقرر کئے گئے ہیں، وزیر داخلہ نے اجلاس میں ایسے کسی واقعہ کے بارے میں اسلام آباد انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا مگر بد قسمتی سے انتظامیہ کوئی مربوط حفاظتی انتظام کرنے میں ناکام رہی، انٹیلی جنس ایجنسیوں سے کوئی میٹنگ کی گئی نہ سیکیورٹی اقدامات بڑھانے کیلئے سیشن جج اسلام آباد سے رابطہ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے سیکرٹریٹ میں موجودہ سرکاری افسران ، تاجروں، عدلیہ اور دیگر اداروں کے ساتھ کوئی اجلاس نہیں کئے۔ متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور سینئر پولیس افسر سیکیورٹی و امن وامان کے ذمہ دار ہیں یہ وزیر داخلہ کا امتحان ہے کہ اپنے صاف و شفاف ہونے کو ثابت کریں اور ہر قسم کے دبائو کے سامنے کھڑے ہو کر مثال قائم کر دیں۔ بعض عناصر کا مطالبہ ہے کہ اس سیکیورٹی کو تاہی اورغیر مؤثر رابطے کے ذمہ داروں کے خلاف کیس رجسٹر کئے جائیں، یہ بھی سوال ہے کہ رینجرز کو جو شہر میں موجود ہے، مختلف سیکٹرز میں کوئیک رسپانس فورس کے طور پر تعینات کیوں نہیں کیا گیا؟ مسلسل فون کالز اور ایس ایم ایس کے باوجود ڈپٹی کمشنر شیردل اور ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان نے سوالات کے جواب نہیں دیئے۔ایس ایس پی سے پوچھا گیا آپ کے خیال میں اسلام آباد کچہری سانحہ کا ذمہ دار کون ہے؟ داخلی راستوں پرچیکنگ / روکنا پولیس کی ذمہ داری ہے ، آپ بطور ایس ایس پی اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہیں ؟ کیا یہ درست ہے کہ اس عہدے کے لئے آپ کی سفارش پنجاب کی اہم شخصیت کے بیٹے نے کی تھی؟ دریں اثناء انتظامیہ اور پولیس افسران کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات صرف اسلام آباد میں نہیں پورے ملک میں پیش آرہے ہیں، ان کا پولیس یا انتظامیہ کی اہلیت سے تعلق نہیں، ڈپٹی کمشنر اورایس ایس پی اپنی صلاحیت و قابلیت کی بناء پر مقرر کئے گئے ہیں، سفارش کی بنیاد پر نہیں، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان گزشتہ کئی برس سے ان حالات سے گزر رہا ہے پچھلی حکومتوں کے دور میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں تاہم اب کئی برسوں کے بعد قومی سلامتی پالیسی سامنے آئی ہے پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد اس پالیسی پر عملدرآمد سے امید کی جاسکتی ہے کہ حالات پرقابو پانے میں مدد ملے گی۔


سانحہ اسلام آباد، سول انتظامیہ اورپولیس کی اہلیت پر سوالات

سانحہ اسلام آباد، سول انتظامیہ اورپولیس کی اہلیت پر سوالات
اسلام آباد(شکیل انجم)وفاقی دارالحکومت میں 3مارچ کاہولناک واقعہ سول انتظامیہ اور وفاقی پولیس کی نااہلیت اورعدم قابلیت کا بھرپور اظہار ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ افسران ایک اعلیٰ ملکی شخصیت کی چوائس ہیں، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد شیر دل ایک اعلیٰ شخصیت کے ساتھ رہے ہیں جبکہ ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کو ایک اہم شخصیت کے بیٹے کی سفارش پر پنجاب سے وفاقی دارالحکومت لایا گیا ہے تاہم دونوں افسران اس اہم امتحان میں اپنی صلاحیت و اہلیت کا مظاہرہ کرنے میں بری طرح ناکام رہے، سرکاری ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ سانحہ اسلام آباد سیکورٹی اداروں اور انٹیلی جنس وارننگ کے باوجود رونما ہوا حیران کن طور پر یہ دونوں افسران ، جو سیکیورٹی کے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں، سیکیورٹی کوتاہی کا تعین کرنے کیلئے انکوائری افسر مقرر کئے گئے ہیں، وزیر داخلہ نے اجلاس میں ایسے کسی واقعہ کے بارے میں اسلام آباد انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا مگر بد قسمتی سے انتظامیہ کوئی مربوط حفاظتی انتظام کرنے میں ناکام رہی، انٹیلی جنس ایجنسیوں سے کوئی میٹنگ کی گئی نہ سیکیورٹی اقدامات بڑھانے کیلئے سیشن جج اسلام آباد سے رابطہ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے سیکرٹریٹ میں موجودہ سرکاری افسران ، تاجروں، عدلیہ اور دیگر اداروں کے ساتھ کوئی اجلاس نہیں کئے۔ متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور سینئر پولیس افسر سیکیورٹی و امن وامان کے ذمہ دار ہیں یہ وزیر داخلہ کا امتحان ہے کہ اپنے صاف و شفاف ہونے کو ثابت کریں اور ہر قسم کے دبائو کے سامنے کھڑے ہو کر مثال قائم کر دیں۔ بعض عناصر کا مطالبہ ہے کہ اس سیکیورٹی کو تاہی اورغیر مؤثر رابطے کے ذمہ داروں کے خلاف کیس رجسٹر کئے جائیں، یہ بھی سوال ہے کہ رینجرز کو جو شہر میں موجود ہے، مختلف سیکٹرز میں کوئیک رسپانس فورس کے طور پر تعینات کیوں نہیں کیا گیا؟ مسلسل فون کالز اور ایس ایم ایس کے باوجود ڈپٹی کمشنر شیردل اور ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان نے سوالات کے جواب نہیں دیئے۔ایس ایس پی سے پوچھا گیا آپ کے خیال میں اسلام آباد کچہری سانحہ کا ذمہ دار کون ہے؟ داخلی راستوں پرچیکنگ / روکنا پولیس کی ذمہ داری ہے ، آپ بطور ایس ایس پی اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہیں ؟ کیا یہ درست ہے کہ اس عہدے کے لئے آپ کی سفارش پنجاب کی اہم شخصیت کے بیٹے نے کی تھی؟ دریں اثناء انتظامیہ اور پولیس افسران کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات صرف اسلام آباد میں نہیں پورے ملک میں پیش آرہے ہیں، ان کا پولیس یا انتظامیہ کی اہلیت سے تعلق نہیں، ڈپٹی کمشنر اورایس ایس پی اپنی صلاحیت و قابلیت کی بناء پر مقرر کئے گئے ہیں، سفارش کی بنیاد پر نہیں، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان گزشتہ کئی برس سے ان حالات سے گزر رہا ہے پچھلی حکومتوں کے دور میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں تاہم اب کئی برسوں کے بعد قومی سلامتی پالیسی سامنے آئی ہے پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد اس پالیسی پر عملدرآمد سے امید کی جاسکتی ہے کہ حالات پرقابو پانے میں مدد ملے گی۔