Latest

طالبان سے براہ راست خفیہ مذاکرات کرنے کا فیصلہ، چاہتا ہوں آپریشن کی نوبت نہ آئے،نواز شریف

طالبان سے براہ راست خفیہ مذاکرات کرنے کا فیصلہ، چاہتا ہوں آپریشن کی نوبت نہ آئے،نواز شریف
اسلام آباد (نمائندہ جنگ، ایجنسیاں) وزیراعظم نوازشریف سے جمعرات کو حکومتی اور طالبان کمیٹیوں نے ملاقات کی جس میں طالبان سے براہ راست خفیہ مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیاگیا علاوہ ازیں یہ فیصلہ بھی کیاگیا کہ حالیہ دہشتگردی کے واقعات پروضاحت طلب کرنے کیلئے حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کا مشترکہ وفد وزیرستان بھیجا جائےگا، مذاکرات میں فوج اور آئی ایس آئی کو بھی شامل کیاجائےگا اورطالبان سے مذاکرات کی حکومتی کمیٹی اگرچہ کام کرتی رہے گی البتہ ایک اور اسمبلی سطح کی نئی کمیٹی بنے گی۔ اجلاس میں حکومتی کمیٹی کے عرفان صدیقی، میجر(ر) عامر، رستم شاہ مہمند، رحیم اللہ یوسفزئی جبکہ طالبان کمیٹی کی طرف سے مولاناسمیع الحق، پروفیسرابراہیم اور مولانایوسف شاہ شامل تھے۔ اس موقع پر وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی بھی موجود تھے۔ وزیراعظم اور حکومتی کمیٹی کے ارکان نے دہشتگردی کے حالیہ واقعات پر تشویش کااظہار کیا۔ ملاقات کے دوران مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی تجاویز، دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام ان واقعات کے ذمہ داروں کی نشاندہی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جبکہ حکومتی کمیٹی کے کوآرڈینیٹر عرفان صدیقی نے بدھ کے روز اکوڑہ خٹک میں دونوں کمیٹیوں کی ملاقات کے بارے میں وزیراعظم کو بریفنگ دی جبکہ اس بات پر بھی اتفاق کیاگیا کہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھنا چاہیے۔ اس موقع پروزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کو ہر قسم کی دہشت گردی سے پاک کر کے عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا اور امن قائم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ امن کے بغیر پاکستان کو ترقی اور خوشحالی سے ہمکنار کرناممکن نہیں۔ پاکستان دہشت گردی اور بدامنی کی بہت بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ اب عالمی برادری میں اپنا تشخص بحال کرنے اور عوام کی زندگیوں میں خوشگوار انقلاب لانے کیلئے امن کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعظم یہ میرا آئینی، دینی، قومی، اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے کہ میں آگ اور خون کا سلسلہ بند کر کے ملک اور عوام کو امن دوں۔ اپنی یہ ذمہ داری نبھانے میں کوئی کوتاہی نہیں کرونگا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ فیصلہ سازی کے نئے مرحلے میں بھی کمیٹیوں کی بھی باہمی مشاورت، رہنمائی اور رابطہ کاری کی ضرورت رہے گی۔ وزیراعظم نے مزید کہاکہ چاہتا ہوں کہ آپریشن کی نوبت نہ آئے۔ طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے وزیراعظم کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ قیام امن کے اس مشن میں ہم پوری طرح آپ کے ساتھ ہیں اور اس کارخیر میں اللہ کی مدد بھی آپ کے شامل حال رہے گی۔ انہوں نے اتفاق کیا کہ مذاکرات کے نئے مرحلے میں فیصلہ سازی کے عمل کو موثر بنانے کیلئے نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ وزیراعظم کی ذاتی رہنمائی، دلچسپی اور نیک نیتی پر مبنی کوششوں کی وجہ سے معاملات میں بہتری آئی ہے اور انشاء اللہ ملک امن سے ہمکنار ہو گا۔مولانا سمیع الحق نے دہشتگردی کے واقعات کے ذمہ داروں کی نشاندہی پر زوردیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور انہوں نے یقین دلایا کہ وہ کوشش کرینگے کہ آپریشن نہ ہو،کمیٹیوں میں مزید بااثر لوگ شامل ہونے چاہئیں۔ این این آئی کے مطابق ملاقات میں طے پایا کہ طالبان شوریٰ سے ملاقات کیلئے جانیوالی طالبان کمیٹی میں ایک حکومتی نمائندہ بھی شامل ہوگا ، وزیر اعظم کو یہ تجویز بھی دی گئی کہ فوری فیصلے کرنے کیلئے براہ راست رابطوں کا میکنزم بنایا جائے جس پر وزیر اعظم نے مثبت غور کی یقین دہانی کرائی ۔آن لائن کے مطابق باوثوق ذرائع نے بتایاکہ اجلاس کے دوران حالیہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا اور کہاکہ اگر دہشت گردی حملے جاری رہے تو پھر مذاکرات کیسے آگے بڑھیںگے اس لئے طالبان کو چاہیے کہ پہلے فی الفور شدت پسندی کی کارروائیوں سے نہ صرف لاتعلقی کا اظہار کریں بلکہ جو ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں ان گروپس کی بھی نشاند ہی کریں۔


طالبان سے براہ راست خفیہ مذاکرات کرنے کا فیصلہ، چاہتا ہوں آپریشن کی نوبت نہ آئے،نواز شریف

طالبان سے براہ راست خفیہ مذاکرات کرنے کا فیصلہ، چاہتا ہوں آپریشن کی نوبت نہ آئے،نواز شریف
اسلام آباد (نمائندہ جنگ، ایجنسیاں) وزیراعظم نوازشریف سے جمعرات کو حکومتی اور طالبان کمیٹیوں نے ملاقات کی جس میں طالبان سے براہ راست خفیہ مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیاگیا علاوہ ازیں یہ فیصلہ بھی کیاگیا کہ حالیہ دہشتگردی کے واقعات پروضاحت طلب کرنے کیلئے حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کا مشترکہ وفد وزیرستان بھیجا جائےگا، مذاکرات میں فوج اور آئی ایس آئی کو بھی شامل کیاجائےگا اورطالبان سے مذاکرات کی حکومتی کمیٹی اگرچہ کام کرتی رہے گی البتہ ایک اور اسمبلی سطح کی نئی کمیٹی بنے گی۔ اجلاس میں حکومتی کمیٹی کے عرفان صدیقی، میجر(ر) عامر، رستم شاہ مہمند، رحیم اللہ یوسفزئی جبکہ طالبان کمیٹی کی طرف سے مولاناسمیع الحق، پروفیسرابراہیم اور مولانایوسف شاہ شامل تھے۔ اس موقع پر وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی بھی موجود تھے۔ وزیراعظم اور حکومتی کمیٹی کے ارکان نے دہشتگردی کے حالیہ واقعات پر تشویش کااظہار کیا۔ ملاقات کے دوران مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی تجاویز، دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام ان واقعات کے ذمہ داروں کی نشاندہی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جبکہ حکومتی کمیٹی کے کوآرڈینیٹر عرفان صدیقی نے بدھ کے روز اکوڑہ خٹک میں دونوں کمیٹیوں کی ملاقات کے بارے میں وزیراعظم کو بریفنگ دی جبکہ اس بات پر بھی اتفاق کیاگیا کہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھنا چاہیے۔ اس موقع پروزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کو ہر قسم کی دہشت گردی سے پاک کر کے عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا اور امن قائم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ امن کے بغیر پاکستان کو ترقی اور خوشحالی سے ہمکنار کرناممکن نہیں۔ پاکستان دہشت گردی اور بدامنی کی بہت بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ اب عالمی برادری میں اپنا تشخص بحال کرنے اور عوام کی زندگیوں میں خوشگوار انقلاب لانے کیلئے امن کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعظم یہ میرا آئینی، دینی، قومی، اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے کہ میں آگ اور خون کا سلسلہ بند کر کے ملک اور عوام کو امن دوں۔ اپنی یہ ذمہ داری نبھانے میں کوئی کوتاہی نہیں کرونگا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ فیصلہ سازی کے نئے مرحلے میں بھی کمیٹیوں کی بھی باہمی مشاورت، رہنمائی اور رابطہ کاری کی ضرورت رہے گی۔ وزیراعظم نے مزید کہاکہ چاہتا ہوں کہ آپریشن کی نوبت نہ آئے۔ طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے وزیراعظم کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ قیام امن کے اس مشن میں ہم پوری طرح آپ کے ساتھ ہیں اور اس کارخیر میں اللہ کی مدد بھی آپ کے شامل حال رہے گی۔ انہوں نے اتفاق کیا کہ مذاکرات کے نئے مرحلے میں فیصلہ سازی کے عمل کو موثر بنانے کیلئے نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ وزیراعظم کی ذاتی رہنمائی، دلچسپی اور نیک نیتی پر مبنی کوششوں کی وجہ سے معاملات میں بہتری آئی ہے اور انشاء اللہ ملک امن سے ہمکنار ہو گا۔مولانا سمیع الحق نے دہشتگردی کے واقعات کے ذمہ داروں کی نشاندہی پر زوردیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور انہوں نے یقین دلایا کہ وہ کوشش کرینگے کہ آپریشن نہ ہو،کمیٹیوں میں مزید بااثر لوگ شامل ہونے چاہئیں۔ این این آئی کے مطابق ملاقات میں طے پایا کہ طالبان شوریٰ سے ملاقات کیلئے جانیوالی طالبان کمیٹی میں ایک حکومتی نمائندہ بھی شامل ہوگا ، وزیر اعظم کو یہ تجویز بھی دی گئی کہ فوری فیصلے کرنے کیلئے براہ راست رابطوں کا میکنزم بنایا جائے جس پر وزیر اعظم نے مثبت غور کی یقین دہانی کرائی ۔آن لائن کے مطابق باوثوق ذرائع نے بتایاکہ اجلاس کے دوران حالیہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا اور کہاکہ اگر دہشت گردی حملے جاری رہے تو پھر مذاکرات کیسے آگے بڑھیںگے اس لئے طالبان کو چاہیے کہ پہلے فی الفور شدت پسندی کی کارروائیوں سے نہ صرف لاتعلقی کا اظہار کریں بلکہ جو ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں ان گروپس کی بھی نشاند ہی کریں۔


طالبان سے براہ راست خفیہ مذاکرات کرنے کا فیصلہ، چاہتا ہوں آپریشن کی نوبت نہ آئے،نواز شریف

طالبان سے براہ راست خفیہ مذاکرات کرنے کا فیصلہ، چاہتا ہوں آپریشن کی نوبت نہ آئے،نواز شریف
اسلام آباد (نمائندہ جنگ، ایجنسیاں) وزیراعظم نوازشریف سے جمعرات کو حکومتی اور طالبان کمیٹیوں نے ملاقات کی جس میں طالبان سے براہ راست خفیہ مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیاگیا علاوہ ازیں یہ فیصلہ بھی کیاگیا کہ حالیہ دہشتگردی کے واقعات پروضاحت طلب کرنے کیلئے حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کا مشترکہ وفد وزیرستان بھیجا جائےگا، مذاکرات میں فوج اور آئی ایس آئی کو بھی شامل کیاجائےگا اورطالبان سے مذاکرات کی حکومتی کمیٹی اگرچہ کام کرتی رہے گی البتہ ایک اور اسمبلی سطح کی نئی کمیٹی بنے گی۔ اجلاس میں حکومتی کمیٹی کے عرفان صدیقی، میجر(ر) عامر، رستم شاہ مہمند، رحیم اللہ یوسفزئی جبکہ طالبان کمیٹی کی طرف سے مولاناسمیع الحق، پروفیسرابراہیم اور مولانایوسف شاہ شامل تھے۔ اس موقع پر وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی بھی موجود تھے۔ وزیراعظم اور حکومتی کمیٹی کے ارکان نے دہشتگردی کے حالیہ واقعات پر تشویش کااظہار کیا۔ ملاقات کے دوران مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی تجاویز، دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام ان واقعات کے ذمہ داروں کی نشاندہی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جبکہ حکومتی کمیٹی کے کوآرڈینیٹر عرفان صدیقی نے بدھ کے روز اکوڑہ خٹک میں دونوں کمیٹیوں کی ملاقات کے بارے میں وزیراعظم کو بریفنگ دی جبکہ اس بات پر بھی اتفاق کیاگیا کہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھنا چاہیے۔ اس موقع پروزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کو ہر قسم کی دہشت گردی سے پاک کر کے عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا اور امن قائم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ امن کے بغیر پاکستان کو ترقی اور خوشحالی سے ہمکنار کرناممکن نہیں۔ پاکستان دہشت گردی اور بدامنی کی بہت بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ اب عالمی برادری میں اپنا تشخص بحال کرنے اور عوام کی زندگیوں میں خوشگوار انقلاب لانے کیلئے امن کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعظم یہ میرا آئینی، دینی، قومی، اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے کہ میں آگ اور خون کا سلسلہ بند کر کے ملک اور عوام کو امن دوں۔ اپنی یہ ذمہ داری نبھانے میں کوئی کوتاہی نہیں کرونگا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ فیصلہ سازی کے نئے مرحلے میں بھی کمیٹیوں کی بھی باہمی مشاورت، رہنمائی اور رابطہ کاری کی ضرورت رہے گی۔ وزیراعظم نے مزید کہاکہ چاہتا ہوں کہ آپریشن کی نوبت نہ آئے۔ طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے وزیراعظم کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ قیام امن کے اس مشن میں ہم پوری طرح آپ کے ساتھ ہیں اور اس کارخیر میں اللہ کی مدد بھی آپ کے شامل حال رہے گی۔ انہوں نے اتفاق کیا کہ مذاکرات کے نئے مرحلے میں فیصلہ سازی کے عمل کو موثر بنانے کیلئے نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ وزیراعظم کی ذاتی رہنمائی، دلچسپی اور نیک نیتی پر مبنی کوششوں کی وجہ سے معاملات میں بہتری آئی ہے اور انشاء اللہ ملک امن سے ہمکنار ہو گا۔مولانا سمیع الحق نے دہشتگردی کے واقعات کے ذمہ داروں کی نشاندہی پر زوردیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور انہوں نے یقین دلایا کہ وہ کوشش کرینگے کہ آپریشن نہ ہو،کمیٹیوں میں مزید بااثر لوگ شامل ہونے چاہئیں۔ این این آئی کے مطابق ملاقات میں طے پایا کہ طالبان شوریٰ سے ملاقات کیلئے جانیوالی طالبان کمیٹی میں ایک حکومتی نمائندہ بھی شامل ہوگا ، وزیر اعظم کو یہ تجویز بھی دی گئی کہ فوری فیصلے کرنے کیلئے براہ راست رابطوں کا میکنزم بنایا جائے جس پر وزیر اعظم نے مثبت غور کی یقین دہانی کرائی ۔آن لائن کے مطابق باوثوق ذرائع نے بتایاکہ اجلاس کے دوران حالیہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا اور کہاکہ اگر دہشت گردی حملے جاری رہے تو پھر مذاکرات کیسے آگے بڑھیںگے اس لئے طالبان کو چاہیے کہ پہلے فی الفور شدت پسندی کی کارروائیوں سے نہ صرف لاتعلقی کا اظہار کریں بلکہ جو ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں ان گروپس کی بھی نشاند ہی کریں۔