Latest

عالمی عدالت انصاف میں خفیہ اداروں کیخلاف ثبوت پیش کریں گے،ماما قدیر بلوچ

عالمی عدالت انصاف میں خفیہ اداروں کیخلاف ثبوت پیش کریں گے،ماما قدیر بلوچ
کراچی (جنگ نیوز)بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی کےلیے کوششیں کرنے والے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے نائب چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے عالمی عدالت میں خفیہ اداروں کےخلاف ثبوت پیش کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے پہلے وعدہ کیا کہ وہ نواز شریف سے بات کریں گے لیکن پھر بیان دیا کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ لانگ مارچ سے روکنے کےلیے دھمکیاں دی گئیں۔ 5سال سے احتجاج کررہے ہیں، انصاف کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹا چکے، حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی، اقوام متحدہ نے خود رابطہ کیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں میزبان حامد میر سے گفتگو کے دوران کہی۔ تفصیلات کے مطابق ماما قدیر نے کہا کہ میرے بیٹے کو 13فروری2009کو آئی ایس آئی والے اٹھا کرلے گئے تھے اور تین سال بعد اس کی مسخ شدہ نعش ملی۔ماما قدیر نے بتایا گمشدگی کے دوران ایک روز میرے بیٹے کا فون آیا کہ اس نمبر پر 500،1000کا بیلنس ڈلوا دیں ،پھر عید کے موقع پر آدھی رات کو اس کا فون آیا کہ میں خیر یت سے ہوں آپ لوگو میری فکر نہ کریں میں آئی ایس آئی کی حراست میں ہوں میرے دیگر ساتھی بھی ہیں جس میں ذاکر مجید بلوچ ،غفار اور دیگر ساتھی بھی شامل تھے۔بیٹے نے کہا کہ ایجنسی والے بلیک میل بھی کرتے ہیں پیسے بھی مانگیں گے آپ کسی کو پیسے دیجئے گا نا کسی سے میری رہائی کے لیے سفارش کیجئے گا ۔ماما قدیر نے کہا کہ میرے بیٹے نے کوئی جرم نہیں کیا تھا وہ ایک پارٹی BRPکا مرکزی سیکرٹری اطلاعات تھا۔ پروگرام میں لاپتا شخص مجید بلوچ کی بہن فرزانہ مجید نے بتایا کہ اس کا بھائی بلوچ اسٹوڈنٹ آزاد کا سینئر وائس چیئرمین تھااوراسے 8جون 2009کو مستونگ پڑنگ آباد سے اٹھایا گیا۔لاپتہ شخص رمضان بلوچ کے نو عمر بیٹے نے پروگرام میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں کسی ڈر سے گھر سے نہیں نکلا میں اپنے والد کی بازیابی کے لیے نکلا ہوں ۔ماما قدیر نے کہا ہم نے لانگ مارچ اس لیے کیا کہ شاید یہ بے حس حکومت ہمارے مطالبات پورے کرے ہمارے پیاروں کی بازیابی کے لیے ہم سے کوئی رابطہ کرے ۔سپریم کورٹ نے بھی خواجہ آصف کو کہا تھا کہ آپ جاکر لانگ مارچ والوں کو دیکھیں ان کی کیا حالت ہے ان کے پائوں اپنے پیاروں کے لیے زخمی ہیں ۔ان کو دیکھ آئیں پھر بات کریں۔خواجہ آصف نے کیمپ آکر بڑے وعدے کیے اور تسلیاں دیں ۔ فرزانہ اور سمیع کے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا کر انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد بازیاب کرائے جائیں گے ۔میں اسلام آباد پہنچ کر نواز شریف سے بات کروں گا ۔اس وقت 735افراد خفیہ اداروں کے پاس ہیں ۔ہم انکی یقین دہانی پر دس دن بھوک ہڑتالی کیمپ لگا کر انتظار کرتے رہے ۔مگر تین چار دن کے بعد خواجہ صاحب نے ایک بیان میں کہا کہ نہ ہمارے پاس کوئی لاپتہ فرد ہے اور نہ ہم ان کی بازیابی کے لیے کچھ کرسکتے ہیں۔پھر ہم نے اسلام آباد لانگ مارچ کا فیصلہ کیا ۔مجھے کئی مرتبہ کہا گیا کہ آپ لانگ مارچ نہ کریں آپ کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔لانگ مارچ کے دوران ایک مرتبہ ہمیں پولیس گارڈز نے بتایا کہ ایجنسی والے آئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ ماما قدیر سے بولو کہ یہ لانگ مارچ واپس کرے ورنہ اچھا نہیں ہوگا میں نےکہا کہ ان سے بولو مجھ سے خود بات کریں آدھے گھنٹے کی بحث کے بعد میں نے کہا مارنا ہے ماردیں اٹھا کر لے جانا ہے لے جائیں میں یہ قافلہ ضرور لے جائوں گا۔ مجھے کوئٹہ میں اخبارات کے ذریعے بھی دھمکیان ملیں۔ شفیق مینگل اور سراج رئیسانی کی طرف سے بھی دھمکیاں ملیں مگر میں نے کسی کی پروا نہیں کی۔لاپتہ مجید بلوچ کی بہن اور وائس فار بلوچ مسنگ پر سنزکی جنرل سیکرٹری فرزانہ بلوچ نے کہا کہ ماما قدیر بہت عرصے سے کہتے آرہے ہیں کہ بلوچ مسنگ پرسنز کی تعداد 18000سے زیادہ ہے ۔اب بلوچستان میں آپریشن کے دوران جس طرح لوگوں کواٹھا کر لے جایا جاتا ہے اس سے ان کی تعداد 19000سے زائد ہو چکی ہے ۔ان کے نام اور پتے ہم لوگ لاچکے ہیں۔