Latest

عوام کوطاقت کا سرچشمہ قراردیناشرک ہے‘مولاناعبدالعزیز

عوام کوطاقت کا سرچشمہ قراردیناشرک ہے‘مولاناعبدالعزیز
کراچی(جنگ نیوز)جیو نیوز کے پروگرام’’ جرگہ‘‘ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے خطیب لال مسجد مولانا عبدالعزیز کا اپنے بیان کے حوالے سے کہناتھا کہ عوام کو طاقت کا سرچشمہ قراردینا شرک ہے،اسلام میں جمہوریت کا تصورکہیں بھی نہیں،جہاں تک ہمارے اکابر کی کوشش ہے میں ان کی کوششوں کو سراہتا ہوں، لیکن آگے جو لوگ تھے وہ اتنے دھوکے باز تھے کہ ان شقوں کو وعدوں کی شکل میں شامل کیا گیا اگر وہ یہ کہتے کہ پاکستان کا آئین و قانون آج سے قرآن و سنت ہے باقی تمام آج سے منسوخ اور علماء کو کہتے کہ آپ آئیں اور بتلائیں کون کون سی شقیں ہیں جنہیں ہم ختم کرتے چلے جاتے ہیں،1973کے بعد سے اب تک40سال ہوگئے لیکن وہ شقیں وعدوں کی شکل میں موجود ہیں، ایک آدمی جب تک کلمہ نہ پڑھ لے مسلمان نہ ہوگا اسی طرح اگر کہہ دیا جائے کہ پاکستان کا سپریم لاء قرآن و سنت ہوگا تو لکھ دینا کافی نہیں،ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں، آج بھی سپریم لاء انگریز کا قانون ہے، جس پر سلیم صافی نے کہا کہ آغاز یہیں سے ہے کہ اللہ تبار ک و تعالیٰ پوری کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکم مطلق ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقررکردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا وہ ایک مقدس امانت ہے،انگریز کا تو کہیں ذکر نہیں ہے؟اس بارے میں مولانا عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ اس میں کہا گیا ہے کہ ہوگا یہ نہیں کہا گیا کہ ہے،مولانا فضل الرحمان اورجماعت اسلامی کے سربراہان کی جانب سے پاکستان کے آئین کو اسلامی ماننے کے حوالے سے مولانا عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ ان کی بات بھی کسی حد تک صحیح ہے میں بھی اپنی بات صحیح کہہ رہا ہوں، وہ اس لئے کہہ رہے ہیں کہ اس ملک میں کچھ بھی نہیں مل رہا تو جو تھوڑا بہت ہے اسی پر اکتفا کرلیا جائے جبکہ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ نظام و قانون ہی سارے فساد کی جڑ ہے جس کی وجہ سے آج معاشرہ مصائب و مسائل کا شکار ہے۔


عوام کوطاقت کا سرچشمہ قراردیناشرک ہے‘مولاناعبدالعزیز

عوام کوطاقت کا سرچشمہ قراردیناشرک ہے‘مولاناعبدالعزیز
کراچی(جنگ نیوز)جیو نیوز کے پروگرام’’ جرگہ‘‘ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے خطیب لال مسجد مولانا عبدالعزیز کا اپنے بیان کے حوالے سے کہناتھا کہ عوام کو طاقت کا سرچشمہ قراردینا شرک ہے،اسلام میں جمہوریت کا تصورکہیں بھی نہیں،جہاں تک ہمارے اکابر کی کوشش ہے میں ان کی کوششوں کو سراہتا ہوں، لیکن آگے جو لوگ تھے وہ اتنے دھوکے باز تھے کہ ان شقوں کو وعدوں کی شکل میں شامل کیا گیا اگر وہ یہ کہتے کہ پاکستان کا آئین و قانون آج سے قرآن و سنت ہے باقی تمام آج سے منسوخ اور علماء کو کہتے کہ آپ آئیں اور بتلائیں کون کون سی شقیں ہیں جنہیں ہم ختم کرتے چلے جاتے ہیں،1973کے بعد سے اب تک40سال ہوگئے لیکن وہ شقیں وعدوں کی شکل میں موجود ہیں، ایک آدمی جب تک کلمہ نہ پڑھ لے مسلمان نہ ہوگا اسی طرح اگر کہہ دیا جائے کہ پاکستان کا سپریم لاء قرآن و سنت ہوگا تو لکھ دینا کافی نہیں،ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں، آج بھی سپریم لاء انگریز کا قانون ہے، جس پر سلیم صافی نے کہا کہ آغاز یہیں سے ہے کہ اللہ تبار ک و تعالیٰ پوری کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکم مطلق ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقررکردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا وہ ایک مقدس امانت ہے،انگریز کا تو کہیں ذکر نہیں ہے؟اس بارے میں مولانا عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ اس میں کہا گیا ہے کہ ہوگا یہ نہیں کہا گیا کہ ہے،مولانا فضل الرحمان اورجماعت اسلامی کے سربراہان کی جانب سے پاکستان کے آئین کو اسلامی ماننے کے حوالے سے مولانا عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ ان کی بات بھی کسی حد تک صحیح ہے میں بھی اپنی بات صحیح کہہ رہا ہوں، وہ اس لئے کہہ رہے ہیں کہ اس ملک میں کچھ بھی نہیں مل رہا تو جو تھوڑا بہت ہے اسی پر اکتفا کرلیا جائے جبکہ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ نظام و قانون ہی سارے فساد کی جڑ ہے جس کی وجہ سے آج معاشرہ مصائب و مسائل کا شکار ہے۔