Latest

فوج کو مذاکرات میں شامل کرنا انتہائی خطرناک ہوگا، خورشید شاہ، شجاعت نے بھی مخالفت کردی

فوج کو مذاکرات میں شامل کرنا انتہائی خطرناک ہوگا، خورشید شاہ، شجاعت نے بھی مخالفت کردی
اسلام آباد(آن لائن)قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ طالبان کیساتھ مذاکرات میں حکومتی کمیٹی میں فوجی افسر کو شامل کرنا انتہائی خطرناک ہوگا اور اگر بہت ضروری ہے تو پھر کسی ریٹائرڈ فوجی کو مذاکرات میں شامل کر دیا جائے کیو نکہ مذاکرات ناکام ہوگئے تو فوج کو مذاکرات میں شامل کرنے کے انتہائی خطرناک نتائج مر تب ہونگے۔وہ بدھ کو قومی اسمبلی کے باہر صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔دوسری جانب پمزاسپتال میں سانحہ کچہری کے زخمیوں کی عیادت اور وکلاء سے اظہار یکجہتی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےمسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے بھی فوج کو طالبان سے مذاکرات میں شامل کرنے کی مخالفت کردی ہے۔ضلع کچہری اسلام آباد کے سانحہ کو حکومت کی مکمل ناکامی قرار دیتے ہوئے (ق) لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ حکومت کو طالبان کے حوالے سے بااختیار کیا گیا تو اب ان کا مقصد واضح ہونا چاہیے۔ چوہدری شجاعت کا کہنا تھا کہ مذاکرات کرناحکومت کا کام ہے فوج کا نہیں، حکومت کو مینڈیٹ دے دیا ہے اب ان کا مقصد واضح ہونا چاہیے کہ کرنا کیا ہے، حکومت سانحہ اسلام آباد کچہری میں ابھی تک چار دن گزرنے کے باوجود یہ پتہ نہ چلا سکی کہ دہشتگرد کتنے تھے اور آئے کہاں سے تھے ؟خورشید شاہ نے مزید کہا کہ طالبان سے مذاکراتی عمل میں حکومتی کمیٹی میں فوجی افسر کو شامل کرنا انتہائی خطرناک اقدا م ہوگا کیونکہ جنگ کے بعد کسی دشمن ملک کے ساتھ مذاکرات ہوں تو پھر فوج مذاکرات میں شریک ہوتی ہے۔