Latest

لاپتہ افرادکے بارے میں حقائق معلوم ہونے تک فائل بند نہیں کرسکتے، سپریم کورٹ

لاپتہ افرادکے بارے میں حقائق معلوم ہونے تک فائل بند نہیں کرسکتے، سپریم کورٹ
اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ نے وزارت دفاع کو 24گھنٹوں میں اخونزادہ لاپتہ کیس میں مقدمہ درج کرنے اور تحقیقات کا حکم دیا ہے جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے ہیں حکومت کو جس لاپتہ شخص کا معاملہ حل نہ کرنا ہو اس کے بارے میں کہہ دیا جاتا ہے لاپتہ شخص افغانستان میں ہے خبروں میں آیا ہے کہ آٹھ لاپتہ افراد کنہڑ افغانستان سے واپس لائے جاچکے ہیں یاسین شاہ اور اخونزادہ کے بارے میں بتایا جائے کہ وہ کہاں ہیں ؟ اب تک بازیاب نہ ہوئے تو کس کی ناکامی قرار دیں۔ لاپتہ افراد کے بارے میں جب تک حقائق معلوم نہیں ہوں گے ان کی فائل بند نہیں کرسکتے اب تو سرا بھی مل چکا ہے لاپتہ افراد بھی مل جانے چاہئیں۔ مالاکنڈ حراستی مرکز سے فوج کے ذریعے مبینہ طور پر اٹھائے گئے 35 لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے بدھ کو شروع کی تو درخواست گزار محبت شاہ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل شاہ خاور اوروزارت دفاع کے ڈائریکٹر لیگل عرفان کے علاوہ کے پی کے کے حکام عدالت میں پیش ہوئے آمنہ مسعود جنجوعہ نے بھی لاپتہ افراد کے حوالے سے ایک نئی فہرست عدالت میں پیش کی جن کے مقدمات پشاور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں ان مقدمات میں یاسین شاہ لاپتہ کیس بھی شامل ہے ۔ عدالت کو شاہ خاور نے بتایا کہ گزشتہ روز جسٹس اعجاز افضل خان کے چیمبر میں پانچ لاپتہ افراد اور ان کے چھ رشتہ داروں کو پیش کیا گیا ہے جبکہ حراستی مرکز میں موجود دو افراد کو پیش نہیں کیاجاسکا یاسین شاہ کا بھی پتہ نہیں چلایا جاسکا ۔