Latest

مذاکرات فیصلہ سازی کےمرحلے میں داخل،نیا لائحہ عمل بنانا ہوگا، حکومتی اور طالبان کمیٹیوں میں اتفاق

مذاکرات فیصلہ سازی کےمرحلے میں داخل،نیا لائحہ عمل بنانا ہوگا، حکومتی اور طالبان کمیٹیوں میں اتفاق
نوشہرہ (جنگ نمائندہ، نیوزایجنسیاں) حکومتی اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان گزشتہ روز اکوڑہ خٹک میں ملاقات ہوئی جسکے اختتام پرجاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں کہاگیاہے کہ مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں، اوردونوں کمیٹیاں اس بات پرمتفق ہیں کہ نئی حکمت عملی اور موثر لائحہ عمل طے کیاجائے۔قبل ازیں ملاقات میں طالبان جنگ بندی، دہشت گردی کی تازہ ترین صورتحال اور دیگر امور پرغور کیاگیا۔اس موقع پرحکومتی رابطہ کارعرفان صدیقی نےاس خواہش کااظہار بھی کیاہے طالبان ملک میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کریں۔جبکہ مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ ہر بات کو طالبان کے کھاتے میں نہ ڈالا جائےانہوں نے غیر مشروط جنگ بندی کی ہے۔اس موقع پر دونوں کمیٹیوں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ کے مذاکراتی دور میں مقدر قوتوں کو بھی مشاورت کیلئے شامل کیا جائے ۔اس تمام صورتحال میں طالبان کی کمیٹی کی وزیراعظم میاں محمد نوازشریف سے ملاقات کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ تفصیلات کےمطابق اکوڑہ خٹک میں مولانا سمیع الحق کی رہائش گاہ پرحکومت کی تشکیل کردہ کمیٹی اورطالبان کمیٹی کامشترکہ اجلاس منعقدہ ہوا،اجلاس میں طالبان کی طرف سے فائربندی کے اعلان اوربعد کی صورتحال پرتفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔دونوں کمیٹیوں نے اس امر پراطمینان کااظہار کیاکہ طالبان سے فائر بندی اورسیکورٹی ایجنسیز کی طرف سے جوابی کارروائیوں کے بند ہوجانے سے مذاکراتی عمل ایک اہم اورفیصلہ کن موڑ میں داخل ہوگیا ہے۔ حکومت کی تشکیل کردہ کمیٹی نےاپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہاکہ مذاکرات کے نئے مرحلہ کوزیادہ موثر مفید اورنتیجہ خیز بنانے کےلیے نئی حکمت عملی نے کرنے کی ضرورت ہے۔کمیٹی نے بتایا کہ وہ وزیراعظم کوبھی اپنی اس تجویز سے آگاہ کرچکے ہیں کہ نئے تقاضوں کی روشنی میں موثر مذاکرات کےلیے نیا لائحہ عمل طے کیاجائے۔تاکہ فیصلہ سازی آسان ہو اور محدود مدت میں بہتر نتائج حاصل کرسکیں ۔طالبان کمیٹی نے اس امر سے اتفاق کیاکہ پہلےمرحلے کی کامیابی کے بعد دوسرے مرحلےکوبھی مکمل امن کی منزل تک لے جانے کےلیے زیادہ موثر اورمربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے،کمیٹی کو وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کیلئے کہاکہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے اورنئی حکمت عملی کے بارے میں تبادلہ خیال کیاجاسکے۔اسکے بعد طالبان کمیٹی کا وزیراعظم سے ملاقات کابھی امکان پیدا ہوگیا ہے۔ بعدازاں حکومت کمیٹی کے رکن عرفان صدیقی اور طالبان کمیٹی کے رکن مولانا سمیع الحق نےکہاہے کہ فیصلہ کیاگیاکہ آئندہ مذاکراتی دورمیں ملک کے مقتدر قوتوں ،وزیراعظم ، وزیرداخلہ ،آرمی چیف،ڈی جی آئی ایف آئی کوبھی مشاورت میں شامل کیاجائے۔جو طالبان کی شرائط پرعمل درآمد کی منظوری دیں۔مولانا سمیع الحق نے کہا کہ طالبان کے مطالبات پارلیمنٹ اورآئین تبدیل کرنے کے ںہیں۔بعدازاں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران مولانا سمیع الحق کاکہناتھاکہ طالبان نے غیر مشروط جنگ بندی کی،اس لیے اب ہر بات انکے کھاتے میں ڈالنا مناسب نہیں،یوں نہ کیاجائے،مولانا سمیع الحق کاکہنا تھاکہ میں فوج اور قوم دونوں کاہمدرد ہوں۔