Latest

مذاکرات میں فوج کی نمائندگی طالبان کمیٹی کا تجویز سے اتفاق

مذاکرات میں فوج کی نمائندگی طالبان کمیٹی کا تجویز سے اتفاق
اسلام آباد (احمد حسن)انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف اگلے ایک دو روز میں طالبان کے ساتھ حکومتی کمیٹی کی تجویز پر مذاکرات کے لئے نئی کمیٹی یا پھر موجودہ کمیٹی میں توسیع و ترمیم کر دیں گے اس کے علاوہ وہ کمیٹی ہی کی سفارش پر نئی کمیٹی میں پاک فوج کے نمائندے یا رابطے کے سلسلے میں انتظام کی ہدایت دے دیں گے تاکہ آنے والے مذاکراتی عمل میں فوج براہِ راست سٹیک ہولڈر بن سکے۔ طالبان کمیٹی نے بھی حکومتی کمیٹی کی اس تجویز سے اتفاق کیا ہے کہ طالبان شوریٰ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شروع ہونے کی صورت میں فوجی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔ یاد رہے منگل کے روز طالبان شوریٰ نے پاکستان کی مذاکراتی ٹیم کو شمالی وزیرستان جا کر براہِ راست طالبان شوریٰ کے مقرر کردہ نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرنے کی دعوت دی تھی۔ بدھ کے روز اکوڑہ خٹک میں دونوں کمیٹیوں کے نمائندوں کے مابین ملاقات میں بھی اس معاملے پر غور کیا گیا ہے۔ اور اس پر دونوں کا اتفاق تھا کہ چونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میںاصل فریق فوج ہے اس لئے ضروری ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں جانب مسئلے کے پر امن حل کے لئے جن تجاویز پر بھی اتفاق ہو ان میں فوج کی رضامندی شامل ہو۔ طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر محمد ابراہیم کے مطابق وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں اس معاملے پر بات کی جائے گی کیوں کہ باہمی اتفاقِ رائے کے لئے پاک فوج کی شمولیت سے یقینامذاکرات کی کامیابی یقینی ہو جائے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے اس تجویز کی کہ امن بات چیت میں فوج کو شامل کیا جانا درست نہ ہو گا انہوں نے کہا ماضی میں بیشتر امن معاہدے فوج اور مقامی طالبان کے مابین ہی ہوتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ماضی میں عوامی نیشنل پارٹی کے سواتی طالبان کے ساتھ مذاکرات اور معاہدے کے عمل میں پاکستان پیپلز پارٹی بھی شریک تھی۔دوسری طرف حکومتی کمیٹی کے ایک رکن کے مطابق حکومتی کمیٹی کی ہیئت، ترکیبی میں تبدیلی کی تجویز پوری کمیٹی کی جانب سے پیش کی گئی ہے اور بدھ کے روز اکوڑہ میں ہونے والی ملاقات میں کمیٹی کے چاروں ارکان شریک تھے جن میں میجر عامر بھی شامل تھے جس سے اس بات کی تردید ہو جاتی ہے کہ انہوں نے کمیٹی سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ طالبان اپنی نامزد کردہ کمیٹی میں کوئی تبدیلی نہیں کریں گے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ کمیٹی کے خیال میں اس کے پاس فیصلے کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اس لیے اس میں حکومتی عہدیدار جو فیصلہ سازی کا قانونی حق رکھتے ہوں کی موجودگی ضروری ہے۔


مذاکرات میں فوج کی نمائندگی طالبان کمیٹی کا تجویز سے اتفاق

مذاکرات میں فوج کی نمائندگی طالبان کمیٹی کا تجویز سے اتفاق
اسلام آباد (احمد حسن)انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف اگلے ایک دو روز میں طالبان کے ساتھ حکومتی کمیٹی کی تجویز پر مذاکرات کے لئے نئی کمیٹی یا پھر موجودہ کمیٹی میں توسیع و ترمیم کر دیں گے اس کے علاوہ وہ کمیٹی ہی کی سفارش پر نئی کمیٹی میں پاک فوج کے نمائندے یا رابطے کے سلسلے میں انتظام کی ہدایت دے دیں گے تاکہ آنے والے مذاکراتی عمل میں فوج براہِ راست سٹیک ہولڈر بن سکے۔ طالبان کمیٹی نے بھی حکومتی کمیٹی کی اس تجویز سے اتفاق کیا ہے کہ طالبان شوریٰ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شروع ہونے کی صورت میں فوجی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔ یاد رہے منگل کے روز طالبان شوریٰ نے پاکستان کی مذاکراتی ٹیم کو شمالی وزیرستان جا کر براہِ راست طالبان شوریٰ کے مقرر کردہ نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرنے کی دعوت دی تھی۔ بدھ کے روز اکوڑہ خٹک میں دونوں کمیٹیوں کے نمائندوں کے مابین ملاقات میں بھی اس معاملے پر غور کیا گیا ہے۔ اور اس پر دونوں کا اتفاق تھا کہ چونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میںاصل فریق فوج ہے اس لئے ضروری ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں جانب مسئلے کے پر امن حل کے لئے جن تجاویز پر بھی اتفاق ہو ان میں فوج کی رضامندی شامل ہو۔ طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر محمد ابراہیم کے مطابق وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں اس معاملے پر بات کی جائے گی کیوں کہ باہمی اتفاقِ رائے کے لئے پاک فوج کی شمولیت سے یقینامذاکرات کی کامیابی یقینی ہو جائے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے اس تجویز کی کہ امن بات چیت میں فوج کو شامل کیا جانا درست نہ ہو گا انہوں نے کہا ماضی میں بیشتر امن معاہدے فوج اور مقامی طالبان کے مابین ہی ہوتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ماضی میں عوامی نیشنل پارٹی کے سواتی طالبان کے ساتھ مذاکرات اور معاہدے کے عمل میں پاکستان پیپلز پارٹی بھی شریک تھی۔دوسری طرف حکومتی کمیٹی کے ایک رکن کے مطابق حکومتی کمیٹی کی ہیئت، ترکیبی میں تبدیلی کی تجویز پوری کمیٹی کی جانب سے پیش کی گئی ہے اور بدھ کے روز اکوڑہ میں ہونے والی ملاقات میں کمیٹی کے چاروں ارکان شریک تھے جن میں میجر عامر بھی شامل تھے جس سے اس بات کی تردید ہو جاتی ہے کہ انہوں نے کمیٹی سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ طالبان اپنی نامزد کردہ کمیٹی میں کوئی تبدیلی نہیں کریں گے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ کمیٹی کے خیال میں اس کے پاس فیصلے کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اس لیے اس میں حکومتی عہدیدار جو فیصلہ سازی کا قانونی حق رکھتے ہوں کی موجودگی ضروری ہے۔


مذاکرات میں فوج کی نمائندگی طالبان کمیٹی کا تجویز سے اتفاق

مذاکرات میں فوج کی نمائندگی طالبان کمیٹی کا تجویز سے اتفاق
اسلام آباد (احمد حسن)انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف اگلے ایک دو روز میں طالبان کے ساتھ حکومتی کمیٹی کی تجویز پر مذاکرات کے لئے نئی کمیٹی یا پھر موجودہ کمیٹی میں توسیع و ترمیم کر دیں گے اس کے علاوہ وہ کمیٹی ہی کی سفارش پر نئی کمیٹی میں پاک فوج کے نمائندے یا رابطے کے سلسلے میں انتظام کی ہدایت دے دیں گے تاکہ آنے والے مذاکراتی عمل میں فوج براہِ راست سٹیک ہولڈر بن سکے۔ طالبان کمیٹی نے بھی حکومتی کمیٹی کی اس تجویز سے اتفاق کیا ہے کہ طالبان شوریٰ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شروع ہونے کی صورت میں فوجی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔ یاد رہے منگل کے روز طالبان شوریٰ نے پاکستان کی مذاکراتی ٹیم کو شمالی وزیرستان جا کر براہِ راست طالبان شوریٰ کے مقرر کردہ نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرنے کی دعوت دی تھی۔ بدھ کے روز اکوڑہ خٹک میں دونوں کمیٹیوں کے نمائندوں کے مابین ملاقات میں بھی اس معاملے پر غور کیا گیا ہے۔ اور اس پر دونوں کا اتفاق تھا کہ چونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میںاصل فریق فوج ہے اس لئے ضروری ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں جانب مسئلے کے پر امن حل کے لئے جن تجاویز پر بھی اتفاق ہو ان میں فوج کی رضامندی شامل ہو۔ طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر محمد ابراہیم کے مطابق وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں اس معاملے پر بات کی جائے گی کیوں کہ باہمی اتفاقِ رائے کے لئے پاک فوج کی شمولیت سے یقینامذاکرات کی کامیابی یقینی ہو جائے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے اس تجویز کی کہ امن بات چیت میں فوج کو شامل کیا جانا درست نہ ہو گا انہوں نے کہا ماضی میں بیشتر امن معاہدے فوج اور مقامی طالبان کے مابین ہی ہوتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ماضی میں عوامی نیشنل پارٹی کے سواتی طالبان کے ساتھ مذاکرات اور معاہدے کے عمل میں پاکستان پیپلز پارٹی بھی شریک تھی۔دوسری طرف حکومتی کمیٹی کے ایک رکن کے مطابق حکومتی کمیٹی کی ہیئت، ترکیبی میں تبدیلی کی تجویز پوری کمیٹی کی جانب سے پیش کی گئی ہے اور بدھ کے روز اکوڑہ میں ہونے والی ملاقات میں کمیٹی کے چاروں ارکان شریک تھے جن میں میجر عامر بھی شامل تھے جس سے اس بات کی تردید ہو جاتی ہے کہ انہوں نے کمیٹی سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ طالبان اپنی نامزد کردہ کمیٹی میں کوئی تبدیلی نہیں کریں گے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ کمیٹی کے خیال میں اس کے پاس فیصلے کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اس لیے اس میں حکومتی عہدیدار جو فیصلہ سازی کا قانونی حق رکھتے ہوں کی موجودگی ضروری ہے۔


مذاکرات میں فوج کی نمائندگی طالبان کمیٹی کا تجویز سے اتفاق

مذاکرات میں فوج کی نمائندگی طالبان کمیٹی کا تجویز سے اتفاق
اسلام آباد (احمد حسن)انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف اگلے ایک دو روز میں طالبان کے ساتھ حکومتی کمیٹی کی تجویز پر مذاکرات کے لئے نئی کمیٹی یا پھر موجودہ کمیٹی میں توسیع و ترمیم کر دیں گے اس کے علاوہ وہ کمیٹی ہی کی سفارش پر نئی کمیٹی میں پاک فوج کے نمائندے یا رابطے کے سلسلے میں انتظام کی ہدایت دے دیں گے تاکہ آنے والے مذاکراتی عمل میں فوج براہِ راست سٹیک ہولڈر بن سکے۔ طالبان کمیٹی نے بھی حکومتی کمیٹی کی اس تجویز سے اتفاق کیا ہے کہ طالبان شوریٰ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شروع ہونے کی صورت میں فوجی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔ یاد رہے منگل کے روز طالبان شوریٰ نے پاکستان کی مذاکراتی ٹیم کو شمالی وزیرستان جا کر براہِ راست طالبان شوریٰ کے مقرر کردہ نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرنے کی دعوت دی تھی۔ بدھ کے روز اکوڑہ خٹک میں دونوں کمیٹیوں کے نمائندوں کے مابین ملاقات میں بھی اس معاملے پر غور کیا گیا ہے۔ اور اس پر دونوں کا اتفاق تھا کہ چونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میںاصل فریق فوج ہے اس لئے ضروری ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں جانب مسئلے کے پر امن حل کے لئے جن تجاویز پر بھی اتفاق ہو ان میں فوج کی رضامندی شامل ہو۔ طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر محمد ابراہیم کے مطابق وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں اس معاملے پر بات کی جائے گی کیوں کہ باہمی اتفاقِ رائے کے لئے پاک فوج کی شمولیت سے یقینامذاکرات کی کامیابی یقینی ہو جائے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے اس تجویز کی کہ امن بات چیت میں فوج کو شامل کیا جانا درست نہ ہو گا انہوں نے کہا ماضی میں بیشتر امن معاہدے فوج اور مقامی طالبان کے مابین ہی ہوتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ماضی میں عوامی نیشنل پارٹی کے سواتی طالبان کے ساتھ مذاکرات اور معاہدے کے عمل میں پاکستان پیپلز پارٹی بھی شریک تھی۔دوسری طرف حکومتی کمیٹی کے ایک رکن کے مطابق حکومتی کمیٹی کی ہیئت، ترکیبی میں تبدیلی کی تجویز پوری کمیٹی کی جانب سے پیش کی گئی ہے اور بدھ کے روز اکوڑہ میں ہونے والی ملاقات میں کمیٹی کے چاروں ارکان شریک تھے جن میں میجر عامر بھی شامل تھے جس سے اس بات کی تردید ہو جاتی ہے کہ انہوں نے کمیٹی سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ طالبان اپنی نامزد کردہ کمیٹی میں کوئی تبدیلی نہیں کریں گے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ کمیٹی کے خیال میں اس کے پاس فیصلے کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اس لیے اس میں حکومتی عہدیدار جو فیصلہ سازی کا قانونی حق رکھتے ہوں کی موجودگی ضروری ہے۔


مذاکرات میں فوج کی نمائندگی طالبان کمیٹی کا تجویز سے اتفاق

مذاکرات میں فوج کی نمائندگی طالبان کمیٹی کا تجویز سے اتفاق
اسلام آباد (احمد حسن)انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف اگلے ایک دو روز میں طالبان کے ساتھ حکومتی کمیٹی کی تجویز پر مذاکرات کے لئے نئی کمیٹی یا پھر موجودہ کمیٹی میں توسیع و ترمیم کر دیں گے اس کے علاوہ وہ کمیٹی ہی کی سفارش پر نئی کمیٹی میں پاک فوج کے نمائندے یا رابطے کے سلسلے میں انتظام کی ہدایت دے دیں گے تاکہ آنے والے مذاکراتی عمل میں فوج براہِ راست سٹیک ہولڈر بن سکے۔ طالبان کمیٹی نے بھی حکومتی کمیٹی کی اس تجویز سے اتفاق کیا ہے کہ طالبان شوریٰ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شروع ہونے کی صورت میں فوجی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔ یاد رہے منگل کے روز طالبان شوریٰ نے پاکستان کی مذاکراتی ٹیم کو شمالی وزیرستان جا کر براہِ راست طالبان شوریٰ کے مقرر کردہ نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرنے کی دعوت دی تھی۔ بدھ کے روز اکوڑہ خٹک میں دونوں کمیٹیوں کے نمائندوں کے مابین ملاقات میں بھی اس معاملے پر غور کیا گیا ہے۔ اور اس پر دونوں کا اتفاق تھا کہ چونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میںاصل فریق فوج ہے اس لئے ضروری ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں جانب مسئلے کے پر امن حل کے لئے جن تجاویز پر بھی اتفاق ہو ان میں فوج کی رضامندی شامل ہو۔ طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر محمد ابراہیم کے مطابق وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں اس معاملے پر بات کی جائے گی کیوں کہ باہمی اتفاقِ رائے کے لئے پاک فوج کی شمولیت سے یقینامذاکرات کی کامیابی یقینی ہو جائے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے اس تجویز کی کہ امن بات چیت میں فوج کو شامل کیا جانا درست نہ ہو گا انہوں نے کہا ماضی میں بیشتر امن معاہدے فوج اور مقامی طالبان کے مابین ہی ہوتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ماضی میں عوامی نیشنل پارٹی کے سواتی طالبان کے ساتھ مذاکرات اور معاہدے کے عمل میں پاکستان پیپلز پارٹی بھی شریک تھی۔دوسری طرف حکومتی کمیٹی کے ایک رکن کے مطابق حکومتی کمیٹی کی ہیئت، ترکیبی میں تبدیلی کی تجویز پوری کمیٹی کی جانب سے پیش کی گئی ہے اور بدھ کے روز اکوڑہ میں ہونے والی ملاقات میں کمیٹی کے چاروں ارکان شریک تھے جن میں میجر عامر بھی شامل تھے جس سے اس بات کی تردید ہو جاتی ہے کہ انہوں نے کمیٹی سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ طالبان اپنی نامزد کردہ کمیٹی میں کوئی تبدیلی نہیں کریں گے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ کمیٹی کے خیال میں اس کے پاس فیصلے کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اس لیے اس میں حکومتی عہدیدار جو فیصلہ سازی کا قانونی حق رکھتے ہوں کی موجودگی ضروری ہے۔