Latest

مشرف کی سانحہ اسلام آبادکوعدالت میں عدم پیشی کاعذربنانے کی کوشش

مشرف کی سانحہ اسلام آبادکوعدالت میں عدم پیشی کاعذربنانے کی کوشش
اسلام آباد(طارق بٹ)جنرل(ر) سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف سانحہ اسلام آباد کو خصوصی عدالت میں عدم پیشی کیلئے عذر کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں، پرویز مشرف کے وکلاء پیر کے روز اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں پر ہونیوالے دہشتگرد حملوں سے فائدہ اٹھاکر خصوصی عدالت میں جاری سنگین غداری کے مقدمے کو التواء میں ڈالنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری کا کہنا ہے کہ انہیں مقدمے سے علیحدہ ہونے کیلئے تحریک طالبان پاکستان کی جانب سےقتل کی دھمکی موصول ہوئی جبکہ خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب کا کہنا ہے کہ جان سے مار دینے کی دھمکیاں عدالتوں کو مقدمات کی سماعت سے نہیں روک سکتیں۔ ماتحت عدالت کے جاں بحق ہونیوالے جج دہشتگردوں کا مخصوص ہدف تھے کیونکہ انہوں نےلال مسجد کے امام مولانا عبدالعزیز کے قتل کے کیس میں مشرف کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی درخواست مسترد کردی تھی، تاہم خصوصی عدالت کے تین رکنی بینچ کو کسی قسم کی دھمکی کا سامنا نہیں ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ مشرف پر سنگین ٖغداری کے الزامات پر مقدمہ چلایا جارہاہے اور نہ صرف دہشتگرد بلکہ کئی اور افراد یہ چاہتے ہیں کہ ان پر پاکستان کو امریکی جنگ میں دکھلینے کی پاداش میں فرد جرم عائد ہو، جس کی وجہ سے ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔ اب جبکہ مشرف پر سنگین غداری کے الزامات کے سلسلے میں مقدمہ چل رہا ہے تو مشرف کی قانونی ٹیم خصوصی عدالت کو اسلام آباد کی عدالتوں پر ہونیوالے دہشتگرد حملے سے خوفزدہ کرنے کیلئے سخت محنت کررہی ہے۔ مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری کا دعویٰ ہے کہ انہیں تحریک طالبان کی جانب سے کیس سے الگ ہونے کیلئے انتباہی خط موصول ہوا ہے، بصورت دیگر انہیں قتل کردیا جائیگا، یہ دعویٰ سچا یا جھوٹا ہوسکتا ہے، تاہم لیکن اس قسم کی دھمکی تین رکنی بینچ کو نہیں ملی۔ یہ خطرہ باقی رہے گا چاہے خصوصی عدالت کو کسی اور مقام پر منتقل کربھی دیا جائے۔ خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب کا کہنا ہے کہ جان سے مار دینے کی دھکمیاں موصول ہوتیں رہینگی لیکن یہ دھمکیاں عدالتوں کو مقدمات کی سماعت سے نہیں روک سکتی۔ احمد رضا قصوری کے مطابق مشرف کے وکلاء کو کئی دھمکیوں کا سامنا ہے۔