Latest

معمول کی کورکمانڈرز کانفرنس غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی

معمول کی کورکمانڈرز کانفرنس غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی
کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کےپروگرام ’’آج کامران خان کے ساتھ ‘‘کے میزبان کامران خان نے پروگرام میں تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ معمول کی کور کمانڈر زکانفرنس غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے ،ممکن ہے ایک دوروز میں حکومتی اور طالبان کی مذاکرانی کمیٹیاں تحلیل کردی جائیں،فوج کے لیے مشکل اور نازک معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اب حکومت کی جانب سے ایک براہ راست مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے جو براہ راست مذاکرات کرے گی عین ممکن ہے کہ حکومتی اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کو تحلیل کرنے کا باضابطہ اعلان ایک دو روز میں کردیا جائے ۔کامران خان نے کہا یہ بات بہت اہم ہے کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں فوج کے نمائندوں کو شامل کیا جائے یا فوج کی جانب سے نامزد کر دہ کسی شخصیت کو شامل کیا جائے یا نہ کیا جائے ۔دونوں کمیٹیوں اورحکومت کی طرف سے اس بات کی شدید خواہش نظر آتی ہے کہ طالبان سے براہ راست مذاکرات ہوں تو فوج کا نمائندہ بھی بیٹھے یہ معاملہ یقینی طور پر بہت نازک اور حساس ہےکیونکہ بچھلے کئی سال سے فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کرداراداکر رہی ہے اور اس اہم جنگ کے دوران فوج پر حملے بھی ہوئے اور تقریباً چار ہزار فوجی اہلکاروں نے جام شہادت بھی نوش کیا ہے ۔اب اس حوالے سے فیصلہ کہ فوج براہ راست طالبان کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوجائے ۔وہی طالبان جس نے فوج اور پاکستان میں ہونے والے سیکڑوں دہشت گرد حملوں کی براہ راست ذمہ داری قبول کی ہے ۔یقینی طور پر فوج کے لیے یہ مشکل اور ایک نازک معاملہ ہے ۔کامران خان نے کہا کہ معمول کی کورکمانڈر کانفرنس میں غیر معمولی معاملات سامنے آئیں گے اوریہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے ۔اس لیے بھی یہ کانفرنس اہم ہے کہ صرف مذاکرات کامعاملہ نہیں ہے اس سے آگے چل کے جو بات آگے بڑھے گی طالبان کے جب حقیقی مطالبات سامنے آئیں گے تو اس پر عملدآمد کرنے کے لیے بھی بہت مشکل اور حساس فیصلے کرنے ہوں گے ۔یہ ریاست پاکستان کا بھی بڑا امتحان ہوگا اور حکومت کا بھی ۔مولانا سمیع الحق کی گفتگو سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آگے چل کے طالبان تمام قیدیوں کی رہا ئی ،رقوم کی ادائیگی اور فوج کے انخلاکے مطالبات کریں گے ۔اسی حوالے سے فیصلے کرنے ہوں گے جس کے لیے کور کمانڈر کانفرنس ہو رہی ہے جو ایک اہم فورم ہو گاجس میں ان باتوں پر سیر حاصل بحث ہوگی ۔اس کا چوٹی کا فیصلہ یہ ہوگا کہ کیا فوج طالبان سے مذاکرات کرنے کے لیے براہ راست بھیجے گی یا نہیں بھیجے گی۔کامران خان نے کہا تحفظ کے معاملے میں نواز شریف کی عوامی اعتماد میں کمی آئی ہے ۔