Latest

ملکی معیشت کی بحالی کا عمل تیزتر ہوگا، 31 مارچ تک زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر سے بڑھ جائیں گے، اسحاق ڈار

ملکی معیشت کی بحالی کا عمل تیزتر ہوگا، 31 مارچ تک زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر سے بڑھ جائیں گے، اسحاق ڈار
اسلام آباد (حنیف خالد) وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو اقتصادی امور شماریات و نجکاری سنیٹر محمد اسحق ڈار نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی بحالی کا عمل تیزتر ہوگیا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوگئے ہیں‘ آنے والے مہینوں میں زرمبادلہ کے ملکی ذخائر میں اضافہ متوقع ہے۔ ماہ رواں کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر 10ارب ڈالر سے تجاوز کرجائیں گے۔ روپے اور ڈالر کی شرح مبادلہ مستحکم ہوئی ہے۔ 110روپے سے تجاوز کرنے والا ڈالر آج 105 سے106 روپے کی حد میں ہے۔ کراچی سٹاک ایکسچینج میں 7ماہ میں دنیا بھر کی دیگر اسٹاک ایکسچینجوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سٹاک ایکسچینج میں تیزی سرمایہ کاری کے اعتماد کا مظہر ہے۔ 2013-14کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی داخلی پیداوار 5فیصد رہی جو سابقہ دور حکومت کے 2012-13کی پہلی سہ ماہی میں 2.9 فیصد تھی۔ نجی شعبے کو قرضےکا بہائو2012-13کے پہلے چھ ماہ میں 53ارب روپے تھا جو 2013-14کے پہلے چھ ماہ میں بڑھ کر 231ارب روپے ہوگیا ہے۔ اس عرصے میں مشینری کی درآمد میں 26فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ وہ جنگ کو خصوصی انٹرویو دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ افراط زر 10فیصد سے کم ہوگیا ہے۔ سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اسحق ڈار نے کہا کہ موجودہ حکومت کے آٹھ ماہ کے بعد اور ایسے وقت میں جب آئی ایم ایف نے پاکستان کے حوالے سے اپنا دوسرا جائزہ مکمل کرلیا ہے،اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ اس عرصے میں ہم نے کیا حاصل کیا ہے اورکیا پاکستان مسلم لیگ (ن) کا اقتصادی لائحہ عمل نتائج دے رہا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پانچ جون 2013 کو جب میاں محمد نواز شریف نے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا تو اس وقت پاکستانی معیشت شکستہ حال تھی،بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ سے معمول کی زندگی بری طرح متاثر تھی اور معاشی ترقی کا عمل رکا ہوا تھا۔اس وقت ایسی خبریں تھیں کہ نجی کاروبار باہر منتقل ہو رہے ہیں۔گزشتہ پانچ سال کے اعدادوشمار پر ایک نظر دوڑائی جائے تو یہ بات بالکل واضح ہوجائے گی کہ ملکی معیشت جمود کا شکار تھی، اقتصادی نمو محض تین فیصد، مہنگائی مسلسل چار سال سے دس فیصد سے زائد رہی (جو ملکی تاریخ میں مہنگائی کی شرح دوہرے ہندسے میں رہنے کا سب سے طویل دورانیہ ہے)،شرح سود بلند، بجٹ خسارہ 2012-13 میں جی ڈی پی کے 8.8 فیصد تک پہنچ گیا تھا (جسے اخراجات میں کمی کرکے 8 فیصد تک لایاگیا)، سرمایہ کاری کم ترین سطح پر رہی جبکہ سٹیٹ بنک آف پاکستان کے پاس دستیاب غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر تیزی کے ساتھ گر رہے تھے۔ سابق حکومت کی طرف سے آئی ایم ایف سے لئے گئے قرضہ کی بھاری ادائیگیوں کی وجہ سے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ تھا ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد ملکی معیشت کی بحالی کی حکمت عملی پیش کی،اس سلسلہ میں بجلی کی فراہمی اور معیشت باالخصوص غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ موجودہ حکومت نے چند ہفتوں میں ہی ملک میں بجلی کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے مختصر،درمیانی اور طویل المدتی لائحہ عمل تیار کیا اور توانائی پالیسی 2013 جاری کی ۔ ہمارا فوری ردعمل بجلی کے نظام میں واجبات کی ادائیگی تھا،گزشتہ حکومت نے بجلی کمپنیوں کے واجبات ادا نہیں کئے جس کے باعث بجلی کی پیداوار، تقسیم اور فرنس آئل کی خریداری سمیت پورا نظام عملی طور پر مفلوج ہوکر رہ گیا تھا۔ ہماری حکومت کی جانب سے500 ارب روپے کے گردشی قرضوں کی ادائیگی کے نتیجہ میں 1700 میگاواٹ اضافی بجلی فوری طور پر سسٹم میں شامل کی گئی جس کے نتیجہ میں لوڈشیڈنگ میں کمی آئی جس سے عام لوگوں کو فائدہ پہنچا اور کاروبار اور صنعت کیلئے بجلی میسر آئی۔اس کے علاوہ بھاری قرضوں کے باعث ڈیفالٹ ہونے سے بچنے اور عالمی سطح پر اپنی معاشی حکمت عملی کو تسلیم کرانے کے سلسلے میں ہم نے آئی ایم ایف سے رجوع کیا، اس مرتبہ اکتوبر 2008ء کے آئی ایم ایف کے پروگرام کی طرح ہمیں بھاری رقوم کی ضرورت نہ تھی، سابقہ پروگرام کے تحت پاکستان کو 2013 سے 2015 تک پانچ ارب ڈالر سے زائد کی ادائیگیاں کرنا تھیں جس میں وہ تین ارب ڈالر بھی شامل ہیں جن کی مالی سال 2013ء تا 2014ء میں ادائیگی ضروری تھی، اس لئے قرضہ کے نئے پروگرام کیلئے آئی ایم ایف سے دوبارہ رجوع کرنے کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔ ان دو فوری مسائل پر قابو پاتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کا اگلا اقدام اقتصادی تعمیر نو کے پلان کا آغاز تھا، جیسا کہ ہمارا پلان ہماری پارٹی کے منشور میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، میں اس کے چار اہم شعبوں کو اجاگرکروں گا۔ سب سے پہلے ہم نے فضول اخراجات اور متعدد وزارتوں میں کمی کر کے سادگی اور کفایت شعاری پر مبنی بجٹ پیش کیا، صوابدیدی گرانٹس ختم کی گئیں،انہوں نے کہا کہ سماجی تحفظ کیلئے مختص رقوم میں کٹوتی نہیں کی گئی بلکہ اس مد میں رکھی گئی رقم چالیس ارب روپے سے بڑھا 75 ارب روپے کردی گئی ہے تاکہ غریب اور ضرورت مند لوگوں کی مدد کی جاسکے کیونکہ یہ طبقات گزشتہ چند سالوں کی بڑھتی ہوئی مہنگائی سے شدید متاثر ہیں۔ ہماری دوسری ترجیح ٹیکس محصولات میں اضافہ تھا تاکہ حکومت ضروری انسانی اور طبعی ڈھانچہ میں سرمایہ کاری کرسکے، جیسا کہ سستی بجلی پیدا کرنے اور پانی کی دستیابی کو بڑھانے کیلئے ڈیم تعمیر کرنا ہے۔ہم رواں مالی سال کے دوران ٹیکس محصولات جی ڈی پی کے 8.5فیصد سے بڑھا کر 9.5 فیصد کرنا چاہتے ہیں۔اسی طرح ہم نے عمومی سبسڈی کا نظام ختم کیا تاکہ ہماری نظرثانی شدہ سبسڈی پالیسی کا ہدف صرف معاشرہ کے کم آمدن والے طبقات ہوں۔ وزیراعظم نے سرمایہ کاری میں اضافہ کیلئے تین مراعاتی پیکجز کا اعلان کیا۔ پہلا پیکج ملک کے نوجوانوں کیلئے ہے جس میں کاروباری قرضہ سکیم، لیپ ٹاپ سکیم اور فیسوں کی واپسی کی سکیم شامل ہیں۔ دوسرا پیکج بزنس کی ترقی کیلئے ہے جس میں وزیراعظم نے ملک میں بزنس فٹ پرنٹ میں اضافہ کیلئے مراعات کا اعلان کیا، یہ پاکستان کو حال ہی میں سفارتی کوششوں کے نتیجے میں یورپی ممالک میں رسائی کے سلسلے میں دیئے گئے جی ایس پی پلس کے درجے کے تناظر میں انتہائی اہم ہے۔ اس کے علاوہ ڈی ریگولیشن منصوبہ کا اعلان کیا گیا جس میں بزنس میں نجی سرمایہ کا بڑا کردار بھی شامل ہے جس کا سابقہ حکومتوں نے غلط انتظام کیا تھا۔ اسحقٰ ڈار نے کہا معاشی ترقی کیلئے ہماری حکمت عملی کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی مقامی میڈیا میں ایک بحث بھی چھڑ گئی کہ ڈالر کا لین دین تقریباً 111 روپے کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ پروگرام کی کچھ پوشیدہ شرائط ہیں جن کے نتیجہ میں ملکی کرنسی کی قدر میں کمی ہوگی جس کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور سرکاری اداروں کو اونے پونے داموں نیلام ہوں گے ۔اقتصادی حکمت عملیوںکے نتائج کیلئے وقت درکار ہوتا ہے تاہم ان منصوبوں کے فوری ثمرات بھی محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ معیشت نے ترقی کرنا شروع کر دی ہے، وفاقی ادارہ برائے شماریات کی جانب سے مالی سال 2013-14ء کی پہلی سہ ماہی کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جی ڈی پی کی شرح نمو5 فیصد رہی، یہ شرح 2012-13ء کی پہلی سہ ماہی میں 2.9 فیصد تھی، بہتر نمو کے ابتدائی اشاریے خدمات اور صنعتی شعبوں میں بھی ظاہر ہوئے ہیں جو ملک میں نمو کے روشن امکانات کا اعادہ کرتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ جولائی تا نومبر 2013-14ء میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ شعبہ میں شرح نمو 5.2 فیصد رہی جو اس سے پحھلے سال کے اتنے ہی عرصہ میں2.2 فیصد تھی۔ جن اہم شعبوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا ان میں فرٹیلائزر (33 فیصد)، پیپر اینڈ بورڈ (20 فیصد)، الیکٹرانکس (19 فیصد) اور ٹیکسٹائلز (2 فیصد) شامل ہیں۔یہ نمو سیلز ٹیکس وصولیوں میں بھی ظاہر ہوئی ہے جو اس عرصہ میں 30 فیصد تک بڑھ گئی۔دیگر دو شعبوں میں بہتری اس خیال کو مزید مضبوط بناتی ہے کہ ملک میں نمو کی رفتار میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔پہلا نجی شعبہ کو قرضے کا بہائو جو2012-13 کے پہلے چھ ماہ کے دوران صرف 53 ارب روپے تھا وہ 231 ارب روپے تک بڑھ گیا ہے۔دوسرا مشینری کی درآمدات میں 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ ساری صورتحال واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ ملک میں اقتصادی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں جس کے نتیجہ میں شرح نمو میں اضافہ ہوگا۔ مہنگائی کے دبائو میں کمی آنا شروع ہوچکی ہے۔نومبر 2013ء میں افراط زر کے مقابلے میں دسمبر 2013 اور جنوری 2014ء میں قیمتوں میں کمی کا رجحان رہا، افراط زر سنگل ڈیجٹ میں مستحکم ہے، حکومت اس میں مزید کمی کیلئے بھرپور کوششیں کر رہی ہے، بجٹ قرضہ میں بھی نمایاں طور پر کمی ہوئی۔ آئی ایم ایف کا پہلے چھ ماہ کے دوران بجٹ خسارہ کا اندازہ 3.5 فیصد تھا جبکہ اصل میں یہ 2.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ سال کے اسی عرصہ میں ریکارڈ کئے گئے 2.6 فیصد سے بھی بہتر رہا ہے، یہ گزشتہ سال کے مقابلہ میں بہتر ٹیکس وصولیوں اور اخراجات پر قابو پانے کی وجہ سے ممکن ہوا۔ پاکستان کی برآمدات میں بھی بہتری آئی ہے اور پہلے 6 ماہ کے دوران ملکی برآمدات میں 3.2 فیصد اضافہ ہوا، نمایاں اضافہ ٹیکسٹائل کی برآمدات میں ہوا جو 8 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح ترسیلات زر میں 9.5 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی جو ہدف سے 6 فیصد زیادہ ہے۔ اسحٰق ڈار کے مطابق روپے کی قدر میں استحکام آیا ہے،گزشتہ چھ ماہ کے دوران بعض حلقوں کی جانب سے کی گئی قیاس آرائیوں کے باعث ایکسچینج ریٹ متعدد بار متاثر ہوا، ان کوششوں کی روک تھام کیلئے موثراقدامات کئے گئے جن میں مارکیٹ میں ڈالر کے نوٹوں کی سپلائی میں اضافہ کرنا،برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کی بروقت وصولی یقینی بنانا، ہمسایہ ممالک کو سمگلنگ روکنے کیلئے سونے کی درآمدات پر پابندی لگانا اور قیاس آرائیاں کرنے والے عناصر کے خلاف سخت انتظامی اور قانونی کارروائی کرنے کے اعلانات شامل ہیں۔ان اقدامات کے نتیجہ میں ایکسچینج ریٹ میں استحکام آیا اور ڈالر کی قیمت 105 سے 106 روپے کی حد میں رہی۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی کسی حد تک استحکام آّیا ہے تاہم آنے والے مہینوں میں ان میں اضافہ کی توقع ہے۔ مشکل دن گزر گئے ہیں،آنے والے دنوں اورمہینوں میں ہم ذخائر میں مسلسل اضافہ دیکھیں گے۔ ایک محتاط اندازہ ہے کہ مارچ2014 کے خاتمہ تک زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر سے تجاوز کرجائیںگے۔


ملکی معیشت کی بحالی کا عمل تیزتر ہوگا، 31 مارچ تک زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر سے بڑھ جائیں گے، اسحاق ڈار

ملکی معیشت کی بحالی کا عمل تیزتر ہوگا، 31 مارچ تک زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر سے بڑھ جائیں گے، اسحاق ڈار
اسلام آباد (حنیف خالد) وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو اقتصادی امور شماریات و نجکاری سنیٹر محمد اسحق ڈار نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی بحالی کا عمل تیزتر ہوگیا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوگئے ہیں‘ آنے والے مہینوں میں زرمبادلہ کے ملکی ذخائر میں اضافہ متوقع ہے۔ ماہ رواں کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر 10ارب ڈالر سے تجاوز کرجائیں گے۔ روپے اور ڈالر کی شرح مبادلہ مستحکم ہوئی ہے۔ 110روپے سے تجاوز کرنے والا ڈالر آج 105 سے106 روپے کی حد میں ہے۔ کراچی سٹاک ایکسچینج میں 7ماہ میں دنیا بھر کی دیگر اسٹاک ایکسچینجوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سٹاک ایکسچینج میں تیزی سرمایہ کاری کے اعتماد کا مظہر ہے۔ 2013-14کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی داخلی پیداوار 5فیصد رہی جو سابقہ دور حکومت کے 2012-13کی پہلی سہ ماہی میں 2.9 فیصد تھی۔ نجی شعبے کو قرضےکا بہائو2012-13کے پہلے چھ ماہ میں 53ارب روپے تھا جو 2013-14کے پہلے چھ ماہ میں بڑھ کر 231ارب روپے ہوگیا ہے۔ اس عرصے میں مشینری کی درآمد میں 26فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ وہ جنگ کو خصوصی انٹرویو دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ افراط زر 10فیصد سے کم ہوگیا ہے۔ سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اسحق ڈار نے کہا کہ موجودہ حکومت کے آٹھ ماہ کے بعد اور ایسے وقت میں جب آئی ایم ایف نے پاکستان کے حوالے سے اپنا دوسرا جائزہ مکمل کرلیا ہے،اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ اس عرصے میں ہم نے کیا حاصل کیا ہے اورکیا پاکستان مسلم لیگ (ن) کا اقتصادی لائحہ عمل نتائج دے رہا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پانچ جون 2013 کو جب میاں محمد نواز شریف نے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا تو اس وقت پاکستانی معیشت شکستہ حال تھی،بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ سے معمول کی زندگی بری طرح متاثر تھی اور معاشی ترقی کا عمل رکا ہوا تھا۔اس وقت ایسی خبریں تھیں کہ نجی کاروبار باہر منتقل ہو رہے ہیں۔گزشتہ پانچ سال کے اعدادوشمار پر ایک نظر دوڑائی جائے تو یہ بات بالکل واضح ہوجائے گی کہ ملکی معیشت جمود کا شکار تھی، اقتصادی نمو محض تین فیصد، مہنگائی مسلسل چار سال سے دس فیصد سے زائد رہی (جو ملکی تاریخ میں مہنگائی کی شرح دوہرے ہندسے میں رہنے کا سب سے طویل دورانیہ ہے)،شرح سود بلند، بجٹ خسارہ 2012-13 میں جی ڈی پی کے 8.8 فیصد تک پہنچ گیا تھا (جسے اخراجات میں کمی کرکے 8 فیصد تک لایاگیا)، سرمایہ کاری کم ترین سطح پر رہی جبکہ سٹیٹ بنک آف پاکستان کے پاس دستیاب غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر تیزی کے ساتھ گر رہے تھے۔ سابق حکومت کی طرف سے آئی ایم ایف سے لئے گئے قرضہ کی بھاری ادائیگیوں کی وجہ سے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ تھا ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد ملکی معیشت کی بحالی کی حکمت عملی پیش کی،اس سلسلہ میں بجلی کی فراہمی اور معیشت باالخصوص غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ موجودہ حکومت نے چند ہفتوں میں ہی ملک میں بجلی کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے مختصر،درمیانی اور طویل المدتی لائحہ عمل تیار کیا اور توانائی پالیسی 2013 جاری کی ۔ ہمارا فوری ردعمل بجلی کے نظام میں واجبات کی ادائیگی تھا،گزشتہ حکومت نے بجلی کمپنیوں کے واجبات ادا نہیں کئے جس کے باعث بجلی کی پیداوار، تقسیم اور فرنس آئل کی خریداری سمیت پورا نظام عملی طور پر مفلوج ہوکر رہ گیا تھا۔ ہماری حکومت کی جانب سے500 ارب روپے کے گردشی قرضوں کی ادائیگی کے نتیجہ میں 1700 میگاواٹ اضافی بجلی فوری طور پر سسٹم میں شامل کی گئی جس کے نتیجہ میں لوڈشیڈنگ میں کمی آئی جس سے عام لوگوں کو فائدہ پہنچا اور کاروبار اور صنعت کیلئے بجلی میسر آئی۔اس کے علاوہ بھاری قرضوں کے باعث ڈیفالٹ ہونے سے بچنے اور عالمی سطح پر اپنی معاشی حکمت عملی کو تسلیم کرانے کے سلسلے میں ہم نے آئی ایم ایف سے رجوع کیا، اس مرتبہ اکتوبر 2008ء کے آئی ایم ایف کے پروگرام کی طرح ہمیں بھاری رقوم کی ضرورت نہ تھی، سابقہ پروگرام کے تحت پاکستان کو 2013 سے 2015 تک پانچ ارب ڈالر سے زائد کی ادائیگیاں کرنا تھیں جس میں وہ تین ارب ڈالر بھی شامل ہیں جن کی مالی سال 2013ء تا 2014ء میں ادائیگی ضروری تھی، اس لئے قرضہ کے نئے پروگرام کیلئے آئی ایم ایف سے دوبارہ رجوع کرنے کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔ ان دو فوری مسائل پر قابو پاتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کا اگلا اقدام اقتصادی تعمیر نو کے پلان کا آغاز تھا، جیسا کہ ہمارا پلان ہماری پارٹی کے منشور میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، میں اس کے چار اہم شعبوں کو اجاگرکروں گا۔ سب سے پہلے ہم نے فضول اخراجات اور متعدد وزارتوں میں کمی کر کے سادگی اور کفایت شعاری پر مبنی بجٹ پیش کیا، صوابدیدی گرانٹس ختم کی گئیں،انہوں نے کہا کہ سماجی تحفظ کیلئے مختص رقوم میں کٹوتی نہیں کی گئی بلکہ اس مد میں رکھی گئی رقم چالیس ارب روپے سے بڑھا 75 ارب روپے کردی گئی ہے تاکہ غریب اور ضرورت مند لوگوں کی مدد کی جاسکے کیونکہ یہ طبقات گزشتہ چند سالوں کی بڑھتی ہوئی مہنگائی سے شدید متاثر ہیں۔ ہماری دوسری ترجیح ٹیکس محصولات میں اضافہ تھا تاکہ حکومت ضروری انسانی اور طبعی ڈھانچہ میں سرمایہ کاری کرسکے، جیسا کہ سستی بجلی پیدا کرنے اور پانی کی دستیابی کو بڑھانے کیلئے ڈیم تعمیر کرنا ہے۔ہم رواں مالی سال کے دوران ٹیکس محصولات جی ڈی پی کے 8.5فیصد سے بڑھا کر 9.5 فیصد کرنا چاہتے ہیں۔اسی طرح ہم نے عمومی سبسڈی کا نظام ختم کیا تاکہ ہماری نظرثانی شدہ سبسڈی پالیسی کا ہدف صرف معاشرہ کے کم آمدن والے طبقات ہوں۔ وزیراعظم نے سرمایہ کاری میں اضافہ کیلئے تین مراعاتی پیکجز کا اعلان کیا۔ پہلا پیکج ملک کے نوجوانوں کیلئے ہے جس میں کاروباری قرضہ سکیم، لیپ ٹاپ سکیم اور فیسوں کی واپسی کی سکیم شامل ہیں۔ دوسرا پیکج بزنس کی ترقی کیلئے ہے جس میں وزیراعظم نے ملک میں بزنس فٹ پرنٹ میں اضافہ کیلئے مراعات کا اعلان کیا، یہ پاکستان کو حال ہی میں سفارتی کوششوں کے نتیجے میں یورپی ممالک میں رسائی کے سلسلے میں دیئے گئے جی ایس پی پلس کے درجے کے تناظر میں انتہائی اہم ہے۔ اس کے علاوہ ڈی ریگولیشن منصوبہ کا اعلان کیا گیا جس میں بزنس میں نجی سرمایہ کا بڑا کردار بھی شامل ہے جس کا سابقہ حکومتوں نے غلط انتظام کیا تھا۔ اسحقٰ ڈار نے کہا معاشی ترقی کیلئے ہماری حکمت عملی کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی مقامی میڈیا میں ایک بحث بھی چھڑ گئی کہ ڈالر کا لین دین تقریباً 111 روپے کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ پروگرام کی کچھ پوشیدہ شرائط ہیں جن کے نتیجہ میں ملکی کرنسی کی قدر میں کمی ہوگی جس کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور سرکاری اداروں کو اونے پونے داموں نیلام ہوں گے ۔اقتصادی حکمت عملیوںکے نتائج کیلئے وقت درکار ہوتا ہے تاہم ان منصوبوں کے فوری ثمرات بھی محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ معیشت نے ترقی کرنا شروع کر دی ہے، وفاقی ادارہ برائے شماریات کی جانب سے مالی سال 2013-14ء کی پہلی سہ ماہی کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جی ڈی پی کی شرح نمو5 فیصد رہی، یہ شرح 2012-13ء کی پہلی سہ ماہی میں 2.9 فیصد تھی، بہتر نمو کے ابتدائی اشاریے خدمات اور صنعتی شعبوں میں بھی ظاہر ہوئے ہیں جو ملک میں نمو کے روشن امکانات کا اعادہ کرتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ جولائی تا نومبر 2013-14ء میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ شعبہ میں شرح نمو 5.2 فیصد رہی جو اس سے پحھلے سال کے اتنے ہی عرصہ میں2.2 فیصد تھی۔ جن اہم شعبوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا ان میں فرٹیلائزر (33 فیصد)، پیپر اینڈ بورڈ (20 فیصد)، الیکٹرانکس (19 فیصد) اور ٹیکسٹائلز (2 فیصد) شامل ہیں۔یہ نمو سیلز ٹیکس وصولیوں میں بھی ظاہر ہوئی ہے جو اس عرصہ میں 30 فیصد تک بڑھ گئی۔دیگر دو شعبوں میں بہتری اس خیال کو مزید مضبوط بناتی ہے کہ ملک میں نمو کی رفتار میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔پہلا نجی شعبہ کو قرضے کا بہائو جو2012-13 کے پہلے چھ ماہ کے دوران صرف 53 ارب روپے تھا وہ 231 ارب روپے تک بڑھ گیا ہے۔دوسرا مشینری کی درآمدات میں 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ ساری صورتحال واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ ملک میں اقتصادی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں جس کے نتیجہ میں شرح نمو میں اضافہ ہوگا۔ مہنگائی کے دبائو میں کمی آنا شروع ہوچکی ہے۔نومبر 2013ء میں افراط زر کے مقابلے میں دسمبر 2013 اور جنوری 2014ء میں قیمتوں میں کمی کا رجحان رہا، افراط زر سنگل ڈیجٹ میں مستحکم ہے، حکومت اس میں مزید کمی کیلئے بھرپور کوششیں کر رہی ہے، بجٹ قرضہ میں بھی نمایاں طور پر کمی ہوئی۔ آئی ایم ایف کا پہلے چھ ماہ کے دوران بجٹ خسارہ کا اندازہ 3.5 فیصد تھا جبکہ اصل میں یہ 2.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ سال کے اسی عرصہ میں ریکارڈ کئے گئے 2.6 فیصد سے بھی بہتر رہا ہے، یہ گزشتہ سال کے مقابلہ میں بہتر ٹیکس وصولیوں اور اخراجات پر قابو پانے کی وجہ سے ممکن ہوا۔ پاکستان کی برآمدات میں بھی بہتری آئی ہے اور پہلے 6 ماہ کے دوران ملکی برآمدات میں 3.2 فیصد اضافہ ہوا، نمایاں اضافہ ٹیکسٹائل کی برآمدات میں ہوا جو 8 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح ترسیلات زر میں 9.5 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی جو ہدف سے 6 فیصد زیادہ ہے۔ اسحٰق ڈار کے مطابق روپے کی قدر میں استحکام آیا ہے،گزشتہ چھ ماہ کے دوران بعض حلقوں کی جانب سے کی گئی قیاس آرائیوں کے باعث ایکسچینج ریٹ متعدد بار متاثر ہوا، ان کوششوں کی روک تھام کیلئے موثراقدامات کئے گئے جن میں مارکیٹ میں ڈالر کے نوٹوں کی سپلائی میں اضافہ کرنا،برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کی بروقت وصولی یقینی بنانا، ہمسایہ ممالک کو سمگلنگ روکنے کیلئے سونے کی درآمدات پر پابندی لگانا اور قیاس آرائیاں کرنے والے عناصر کے خلاف سخت انتظامی اور قانونی کارروائی کرنے کے اعلانات شامل ہیں۔ان اقدامات کے نتیجہ میں ایکسچینج ریٹ میں استحکام آیا اور ڈالر کی قیمت 105 سے 106 روپے کی حد میں رہی۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی کسی حد تک استحکام آّیا ہے تاہم آنے والے مہینوں میں ان میں اضافہ کی توقع ہے۔ مشکل دن گزر گئے ہیں،آنے والے دنوں اورمہینوں میں ہم ذخائر میں مسلسل اضافہ دیکھیں گے۔ ایک محتاط اندازہ ہے کہ مارچ2014 کے خاتمہ تک زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر سے تجاوز کرجائیںگے۔