Latest

موبائل فون کمپنیاں حکومتی انفارمیشن میمورنڈم سے مطمئن نہیں

موبائل فون کمپنیاں حکومتی انفارمیشن میمورنڈم سے مطمئن نہیں
کراچی (رپورٹ: حنا مغل رند) موبائل سیل فون کمپنیاں حکومت کے حالیہ جاری کردہ انفارمیشن میمورنڈم (آئی ایم) سے مطمئن نہیں ہیں جو گزشتہ 25؍ فروری کو جاری ہوا۔ یہ بات سیل فون کمپنیوں سے وابستہ ایک افسر نے بتائی۔معلوم ہوا ہے کہ تین ٹیلی کام آپریٹرز سعودی ٹیلی کام، ترک ٹیلی کام اور اتحاد اتیصلات کنسورشیم کی کمپنی موبیلی ٹیلی کام میں دلچسپی رکھتی ہیں اہم مسئلہ نئے داخل ہونے والوں سے متعلق پالیسی کے حوا لے سے ہے جو اس شعبے کے مطابق بے حد نرم ہے نووارد کمپنیوں کو نیشنل رومنگ اور انفرا اسٹرکچر کے استعمال کی آزادی دے دی گئی ہے۔ لائسنس کی شق 2.6 کے تحت نیا داخل ہونے والا انفرااسٹرکچر میں شراکت داری کی درخواست دے سکتا ہے۔ لائسنس کے کمرشل سمجھوتے پر نہ پہنچنےکی صورت میں لاگت طے کرنے کی غرض سے پی ٹی اے مداخلت کرے گی جس پر پہلے سے موجود آپریٹرز کے لئے کوئی چارہ نہیں رہے گا جو ان کے لئے مناسب نہیں ہوگا جنہوں نے اس میں بھاری سرمایہ لگایا۔ بتایا جاتا ہے کہ آئی ایم میں سرٹیفکیٹ کی شروعات بھی واضح نہیں ہے اس معاملے میں یہ ممکن ہے کہ نیا داخل ہونے والا آپریٹر محض ایک ٹاور یا اس کے بغیر بھی جی ایس ایم اور نیشنل رومنگ خدمات کی فراہمی شروع کرسکتا ہے۔ ایک آپریٹر کے مطابق اس کی وضاحت ہونی چاہئے دوسرا ایشو موجودہ آپریٹرز کی جانب سے 850 ایم جی ایچ زیڈ اسپیکٹرمز کا نیلامی سے باہر ہونا ہے۔ یہ صرف نئے داخل ہونے والوں کے لئے ہے،۔ سیلولر آفیشیل کا کہنا ہے کہ ایسی آسان شرائط کے باعث مارکیٹ ڈائنامکس عدم توازن کا شکار ہوجائیں گی اور اے آر پی یوز مزید نیچے چلے جائیں گے۔ مذکورہ افسر کے مطابق ان کی رائے میں تھری جی اور فور جی اسی وقت موثر اور کامیاب ہوسکتے ہیں جب اسپیکٹرم کی قیمت کی بنیاد پر بولی ہو اور اس میں نئے داخل ہونےو الوں کو شرکت کی اجازت نہ ہو ورنہ مارکیٹ کسی بھی آپریٹر کے لئے مفید نہیں رہے گی جبکہ موجودہ آپریٹرز پہلے ہی سے نہایت کم منافع پر کاروبار کررہے ہیں۔ اس وقت ٹیلی کام کمپنیوں کا اےآر پی یو (ایورج ریونیو پریوزرپرمنتھ) 2.2 ڈالرز پورے خطے میں دوسرا سب سے کم ہے پہلے نمبر پر بنگلہ دیش کا 1.97 ڈالرز ہے جبکہ فلپائن کا 3.44ڈالرز، انڈونیشیا کا 3.09 ڈالرز اور سری لنکا کا 2.35 ڈالرز ہے۔ انہوںنے کہا کہ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لئے سیل فون کمپنیاں مختلف ٹیرف پیکجز لے کر آتی ہیں اس وقت پاکستان میں ٹیلی فون خدمات کی فراہمی خطے میں سب سے زیادہ 76.9 فیصد ہے جس سے ریونیو 440؍ ارب روپے (4.5 ارب ڈالرز) تک پہنچ گیا ہے جس میں موبائل فون خدمات کا بڑا حصہ ہے۔ متحرک موبائل سمز کی تعداد 13؍ کروڑ 40؍ لاکھ تک پہنچ گئی ہے اس طرح یہ حصہ تین ارب 20؍ کروڑ ڈالرز آمدنی کے ساتھ 74؍ فیصد بن جاتا ہے۔ پی ٹی اے کے نیکسٹ جنریشن اسپیکٹرم نیلام کے شائع شدہ انفارمیشن میمورنڈم کے مطابق 6؍ لائسنسوں (ایک 2؍ جی، تین 3؍ جی اور دو 4؍ جی)کی مجموعی نبادی قیمت ایک ارب 60؍ کروڑ ڈالرز کے ساتھ پیشکش کی جائے گی۔ پی ٹی اے نے بولی دہندگان کو 25؍ مارچ 2014ء تک متعلقہ اسپیکٹرم کی بیس پرائس کے 15؍ فیصد کے ساتھ مدعو کیا ہے جبکہ نیلامی کی تاریخ 7؍ اپریل 2014ء طے کی گئی ہے۔لائسنس حاصل کرلینے کی صورت میں کوئی آپر یٹر ٹاپ لائن ریسرچ کے تجزیہ کار طاہر سعید کے مطابق 30؍ دنوں میں سو فیصد ادائیگی کرسکتا ہے یا 50؍ فیصد ادائیگی کے بعد باقی رقم 5؍ مساوی اقساط میں دے سکتا ہے۔ اس وقت ملک میں موبائل انٹرنیٹ صارفین کی تعداد ایک کروڑ 57؍ لاکھ ہے جبکہ اسمارٹ فونز کا اثر و نفوذ صرف 15؍فیصد تک محدود ہے تاہم آئندہ چار سال میں یہ اوسط دگنی ہوجانے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو ممکن بنانے کے لئے حکومت کو نئے داخل ہونے والوں کو کچھ یقین دہانیاں فراہم کرنی ہوں گی انہوں نے اس سے اتفاق کیا کہ موبائل فون کا اثر و نفوذ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے اور نووارد صرف سرمایہ کاری کے ذریعہ ہی مارکیٹ کو استحکام دے سکتے ہیں غیر ملکی سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کے پاس ضوابط میں نرمی کے سوا کوئی چا رہ نہیں رہا۔