Latest

نیسپاک میںلوٹ مار، کروڑوں روپے کی بندربانٹ، پبلک اکائونٹس کمیٹی حیران، سیکریٹری پانی و بجلی تحقیقاتی افسر مقرر

نیسپاک میںلوٹ مار، کروڑوں روپے کی بندربانٹ، پبلک اکائونٹس کمیٹی حیران، سیکریٹری پانی و بجلی تحقیقاتی افسر مقرر
اسلام آباد (طاہر خلیل) جمعرات کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں وزارت پانی و بجلی کے ذیلی ادارے نیسپاک کے 2011-2013 کے تین برسوں کے حسابات کی جانچ پڑتال کے دوران قومی خزانے کی لوٹ مار اور بندر بانٹ کے ناقابل یقین‘ ہوشربا واقعات نے قومی مالیاتی امور میں متعلقہ حکام کی کوتاہ اندیشی بے نقاب کردی۔ ذاتی مفادات کے حصول کی دوڑ میں ملازمین میں 83کروڑ روپے کے بونس کی تقسیم‘ آڈیٹر جنرل کو ریکارڈ دکھانے سے انکار3 برسوں میں 14کروڑ روپے کی سٹیشنری کی خریداری‘ ایک ارب 19کروڑ روپے سے کرایہ کی گاڑیوں کا حصول‘باضابطہ سمجھوتوں کے بغیر ڈیمز کی تعمیر کیلئے فنی مشاورت اور قلم کی ایک نوک سے 70جنرل منیجرز اور 27 نائب صدور کی ترقی ایسے چند واقعات میں شامل تھے جن کی تفصیلات پی اے سی کے 4گھنٹے کے اجلاس پر حاوی رہیں اور تفصیلات دیکھ کر اراکین پی اے سی چکرا کر رہ گئے۔ وفاقی سیکرٹری پانی وبجلی سیف اللہ چٹھہ کو تحقیقاتی افسر مقرر کردیا گیا۔ سیکرٹری پانی وبجلی کا کہنا تھا کہ نیسپاک کے مالی اور انتظامی معاملات میں شفافیت نہیں تھی اور وہ صورتحال سے مطمئن نہیں۔ پی اے سی کو بتایا گیا کہ 2009-10 میں 193 نئے ایگزیکٹو افسروں کو نوازنے کیلئے 2004 کا مہنگائی الاؤنس دے دیا گیا۔ اس پر 85 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔ نیسپاک کا کہنا تھا کہ بورڈ آف گورنرز کی منظوری سے الاؤنس دیا گیا۔ نوید قمر اور دیگر ارکان کا اعتراض تھا کہ نیسپاک سرکاری کمپنی ہے۔ بورڈ آف گورنرز مروجہ سرکاری قواعد اور قانون سے الگ فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں۔ پی اے سی نے ہدایت کی کہ معاملہ حتمی فیصلے کیلئے وزارت خزانہ کو بھیجا جائے یا پھر193افسروں سے 85لاکھ روپے کی وصولی کی جائے۔ پی اے سی میں موجود پارلیمنٹرینز نیسپاک کے پیش کردہ اعداد وشمار کو مسترد کردیا جس میں نیسپاک نے اپنی 40سال پہلے کی15لاکھ روپے کی ابتدائی آمدنی کو ہی موجودہ آمدنی (بیلنس شیٹ) ظاہر کیا تھا‘جبکہ سرکاری رپورٹ میں سالانہ منافع ایک ارب اور بچت (ریزروز)6ارب روپے سے زیادہ ظاہر کی گئی۔ چیئرمین پی اے سی خورشید شاہ نے نیسپاک کے اعداد وشمار مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے نیسپاک کی آمدنی واخراجات‘ منافع و بچت سمیت تمام اثاثوں کی تفصیلات دو ماہ میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔