Latest

وزیراعظم نے یوتھ لون اسکیم کو شرعی بنانے کی ہدایت دیدی

وزیراعظم نے یوتھ لون اسکیم کو شرعی بنانے کی ہدایت دیدی
اسلام آباد (انصا رعباسی) معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ حقیقی اور روایتی سودی نظام سے ہٹ کر یوتھ لون اسکیم کو سود سے پاک اور شرعی قوانین کے عین مطابق بنایا جائے۔ نیشنل بینک آف پاکستان کے ایک اہم عہدیدار نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ وزیراعظم نے بینک کی اعلیٰ انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ قرضوں کے اجراء سے قبل ان قرضوں کو اسلامی اصولوں کے مطابق بنایا جائے۔ تاہم، اگر ایسا نہیں ہوسکا تو مقاصد بعد میں حاصل کرلیے جائیں گے لیکن یہ کام قرضوں کی واپسی کے شیڈول سے پہلے ہوگا۔ ذریعے نے بتایا کہ وزیراعظم نہیں چاہتے کہ نوجوانوں کیلئے قرضہ اسکیم میں تاخیر ہو لیکن ان کی خواہش ہے کہ جتنا جلد ممکن ہوسکے اس اسکیم کو شرعی قوانین اور اصولوں کے مطابق بنایا جائے۔ ذریعے نے بتایا کہ مریم نواز شریف نے بھی بینک سے اصرار کیا ہے کہ اس اسکیم کو شرعی بنایا جائے۔ ذریعے نے مزید بتایا کہ وزیراعظم نے بینک سے یہ بھی کہا ہے کہ اسکیم کیلئے صوبائی سطح کے حوالے سے مختص کوٹہ سے بڑھ کر پنجاب سے تعلق رکھنے والے درخواست دہندگان کو قرضہ نہ دیا جائے۔ کہا جاتا ہے کہ پنجاب کے معاملے میں، قرعہ اندازی کی جائے گی کیونکہ اس مخصوص صوبہ سے درخواست دہندگان کی منظور کی جانے والی درخواستوں کی تعداد صوبائی کوٹہ سے زیادہ ہے۔ دیگر صوبوں کے معاملے میں، کہا جاتا ہے کہ جن لوگوں نے شرائط پوری کرلی ہیں انہیں قرضے جاری کیے جائیں گے۔ بینک کی جانب سے 6؍ ہزار سے کم درخواست دہندگان کی منظوری دی گئی ہے جبکہ دیگر درخواستیں تاخیر کا شکار ہیں یا پھر ان میں طے شدہ شرائط پوری نہیں کی گئیں۔ دی نیوز کی جانب سے شایع کی جانے والی حالیہ رپورٹ کے مطابق 26؍ فروری 2014؁ تک صرف 35؍ ہزار 959؍ درخواستیں موصول ہوئی تھیں اور ان تمام درخواستوں میں سے بینک نے صرف 5؍ ہزار 944؍ درخواستیں منظور کیں۔ حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ ایبٹ آباد ریجن سے 842؍ درخواستیں موصول ہوئیں اور صرف 167؍ منظور ہوئیں۔ اسی طرح بہاول پور ریجن سے 3918؍ درخواستیں موصول ہوئیں جبکہ 650؍ منظور ہوئیں، ڈیرہ غازی خان ریجن سے 4153؍ موصول اور 455؍ منظور ہوئیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے صرف 569؍ درخواستیں موصول اور 78؍ منظور ہوئیں۔ فیصل آباد ریجن سے 1167؍ درخواستیں موصول اور 238؍ منظور ہوئیں، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے 571؍ افراد نے درخواست دی اور 135؍ منظور ہوئیں، گوادر ریجن سے 170؍ افراد نے درخواست دی اور صرف 2؍ منظور ہوئیں، گلگت سے 116؍ درخواستوں میں سے ایک بھی منظور نہیں ہوئی۔ گوجرانوالہ سے 2333؍ درخواستیں موصول ہوئیں اور صرف 336؍ منظور ہوئیں۔ گجرات کی 1030؍ درخواستوں میں سے صرف 107؍ منظور ہوئیں۔ جھنگ سے 2071؍ درخواستوں میں سے صرف 480؍ منظور ہوئیں، جہلم سے 437؍ افراد نے درخواست دی لیکن صرف 90؍ کی درخواستیں منظور ہوئیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کراچی کے جنوبی ریجن سے 126؍ درخواستوں میں سے صرف 12؍ منظور ہوئیں، کراچی غربی سے 468؍ افراد نے درخواست دی لیکن صرف 34؍ منظور ہوئیں۔ لاہور وسطی سے صرف 110؍ افراد نے درخواست دی اور صرف 24؍ منظور ہوئیں۔ اسی طرح لاہور شرقی سے 1394؍ درخواستوں میں سے 164؍ منظور ہوئیں۔ لاڑکانہ ریجن سے 704؍ درخواستوں میں سے 131؍ منظور ہوئیں۔ مردان ریجن میں 1343؍ درخواستوں میں سے صرف 275؍ منظور ہوئیں۔ میرپور آزاد کشمیر میں سے 144؍ میں سے 23؍ درخواستیں منظور ہوئیں۔ اسی طرح ملتان ریجن کی 3961؍ درخواستوں میں سے صرف 1261؍ منظور ہوئیں۔ مظفرآباد ریجن کی 375؍ میں سے صرف 52؍ منظور ہوئیں، پشاور ریجن کی 638؍ میں سے صرف 145؍، کوئٹہ کی 756؍ میں سے 71؍، راولپنڈی ریجن کی 1345؍ میں سے 150، ساہیوال کی 2071؍ میں سے 194؍ جبکہ سرگودھا ریجن کی 2486؍ میں سے صرف 364؍ درخواستیں منظور ہوسکیں۔ سیالکوٹ ریجن میں سے 900؍ ا فراد نے درخواست دی لیکن صرف 142؍ منظور ہوسکیں۔ سکھر سے 460؍ افراد کی درخواستوں میں سے صرف 60؍ افراد کی درخواستیں منظور ہوئیں۔