Latest

پولیس نفری کم نہیں،پھربھی سیکورٹی مخدوش ہے،داخلی سلامتی پالیسی

پولیس نفری کم نہیں،پھربھی سیکورٹی مخدوش ہے،داخلی سلامتی پالیسی
اسلام آباد(طارق بٹ) نئی سیکورٹی پالیسی دستاویزات کے مطابق ملک میں پولیس نفری کم نہیں ہے لیکن پھر بھی ملک کی سیکورٹی کی صورتحال مخدوش ہے۔ پالیسی دستاویزات کے مطابق پاکستان میں آبادی کے اعتبار سے پولیس اہلکاروں کی تعداد کا تناسب موذوں ہے تاہم ملک کے مختلف حصوں میں امن و امان کی صورتحال بدستور خراب ہے جبکہ کچھ علاقوں میں تو یہ صورتحال انتہائی خراب ہے۔ قومی داخلی سلامتی پالیسی(این آئی ایس پی) کی دستاویز کے مطابق پاکستان کے دیہی اور شہری علاقوں میں تعینات پولیس افسران کی تعداد آبادی کے تناسب سے انتہائی معاون ہے۔ تاہم این آئی ایس پی کے 21 ویں صدی میں پاکستان میں جدیدپولیس محکمے کی درکار ضروریات محض افرادی قوت کے پیمانے پر نہیں جانچی جاسکتی۔1934 کے پولیس ضابطے ابادی کے اعتبار سے پولیس اہلکاروں کے تناسب کا واضح طور پر تو کوئی معیار مقرر نہیں ہے تاہم اس میں درج ہے کہ جن ٹاؤنز میں آبادی 30 ہزار نفوس سے تجاوز کرجاتی ہے وہاں 450 افراد پر ایک کانسٹیبل متعین کیا جاتا ہے، تاہم اسلام آباد میں یہ تناسب خاصہ اطمیان بخش ہے جہاں 114 افراد پر ایک پولیس اہلکار متعین ہے، جبکہ بلوچستان میں تناسب 223 افراد پر ایک پولیس اہلکار کی تعیناتی ہے۔ گلگت بلتستان میں یہ تناسب 234 افراد پر ایک، خیبر پختونخوا میں 411 افراد پر ایک، آزاد کشمیر میں 467 افراد پر ایک، سندھ میں 504 افراد پر ایک جبکہ پنجاب میں 514 افراد ایک پولیس اہلکار ہے۔ جرائم کی نوعیت اور قانون نافذ کرنےوالے اداروں کو درپیش غیرروائیتی چیلنجز کی وجہ سے انہیں اپنے ترتیب اس کے مطابق بنانا ہوگی۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پولیس آپریشنل ہوچکی ہے جس نے کئی اہم امور بالائے طاق رکھ دیے ہیں۔ فی الوقت ان صوبوں میں ہونےوالی پولیس تربیت دہشت گردی سے نمٹنے کی تدابیر کے گرد گھومتی ہے۔ این آئی ایس پی کے مطابق پاکستان میں داخلی چیلجنز سے نبرد آزما ہونے کےلیے فوج اور پولیس کے درمیان سول آرمڈ فورسز موجود ہیں جوکہ داخلی سطح پر خطرات سے نمٹنے میں پولیس کی معاونت کرتی ہیں۔ یہ سول آرمڈ فورسز اب وزارت داخلہ کے ماتحت ہیں، اور حال ہی میں انہیں کراچی میں تعینات کیا گیا ہے،جرائم پر قابو کےلیے انکی استعداد میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہورہا ہے اور ملک میں انکا کردار بھی اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے۔ پولیس اور سول آرمڈ فورسز کی خامی آئی ایس آئی اور ایم آئی پر بڑھتا ہوا انحصار ہے، جس کی وجہ سے ان کے بوجھ میں اضافہ ہوا ہے اور اس سے داخلی تذویراتی امور کے حوالے سے نمٹنے کےلیے ان کی موثر ہونے میں کمی واقعے ہوسکتی ہے۔ داخلی سیکورٹی پر مامور تمام قانون نافذ کرنےوالے اداروں کو خودمختاری حاصل ہے اور انکی درجہ بندی کے ڈھانچے علیحدہ علیحدہ ہیں۔ سول آرمڈ فورسز اور کسٹمز اور ائرپورٹ سیکورٹی فورسز جیسے قانون نافذ کرنےوالے اداروں کی استعداد میں اضافہ داخلی سیکورٹی کےلیے لازمی ہے۔