Latest

پیپلزپارٹی اورسابقہ اتحادیوں نےشمالی وزیرستان آپریشن پریوٹرن کیوں لیا؟

پیپلزپارٹی اورسابقہ اتحادیوں نےشمالی وزیرستان آپریشن پریوٹرن کیوں لیا؟
اسلام آباد(فخردرانی) پیپلزپارٹی اور اس کے سابقہ دور حکومت کے اتحادیوں نے شمالی وزیرستان آپریشن کے معاملے پر یوٹرن کیوں لے لیا ہے؟ پیپلزپارٹی کے سابقہ دور حکومت میں جب دہشتگردی اپنے عروج پر تھی جس کی وجہ سے 19ہزار سے زائد شہریوں اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار جاں بحق ہوئے تھے،اس کے باوجود پیپلزپارٹی،ایم کیو ایم اور اے این پی نے ہمیشہ مذاکرات کی حمایت اورفوجی آپریشن کی مخالفت کی، اور اب حیر انگیز طور پر وہ آپریشن کا مطالبہ کررہے تھے۔ یہ تینوں جماعتیں جو آج مذاکرات کی مخالفت کررہی ہیں، انہوں نے سابقہ دور اقتدار میں مذاکرات کی توثیق کی تھی، جبکہ سابقہ حکمراں بمشول سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق صدر آصف زرداری نے آپریشن کو مسترد کیا تھا۔ جب سابقہ دور حکومت میؓں دہشتگردی اپنے عروج پر تھی تو پیپلزپارٹی کے قیادت نے یا تو آپریشن کی تجویز کو مسترد کیا یا پھر ذمہ داری فوج کے کاندھوں پرڈالی، پیپلزپارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سختی کے ساتھ آپریشن کا مطالبہ کررہے ہیں اور حکومت کی جانب سے فوج کو مذاکراتی عمل میں شامل کرنے کے فیصلے پر تنقید کررہے ہیں۔ تاہم وہ بھول گئے کہ جب انکی اپنی جماعت اقتدار میں تھی تو اس نے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا معاملہ مکمل طور پر فوج پر چھوڑ دیا تھا۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے یکم جون 2011 کو سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھاکہ حکومت کو فوجی آپریشن کا شوق نہیں ہے، اور حکومت اس صورتحال سے انخلاء کی حکمت عملی کی خواہاں ہے۔ اسی پروگرام میں انہوں نے کہاتھاکہ اگر عسکریت پسند اپنے کالعدم تنظیمیں ختم کرکے اپنے علاقوں کے متعلقہ پولیٹیکل ایجنٹس کے سامنے ہتھیار ڈال دیں تو پھر حکومت ان سے مذاکرات کیلئے تیار ہے۔ اسی طرح جب نیویارک کے ٹائمز اسکوائر پر بم دھماکوں کی کوشش کی گئی اور اسکے بعد امریکا کی جانب سے اسکے عہدیداروں کے پاکستان کے دوروں میں دباؤ بڑھایا گیا تو پیپلزپارٹی کی حکومت نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کی بال فوج کے کورٹ میں ڈال دی۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے سوات اور مالاکنڈ کے متاثرین میں زرتلافی کے چیکس تقسیم کرنے کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ جنرل کیانی کرینگے۔ 2008 میں 2ہزار155 شہری اور 654 سیکورٹی فورسز اہلکار شہید ہوئے، 2009 میں 2ہزار324 شہری اور991 سیکورٹی اہلکار، 2010 میں 1ہزار796شہری اور469 سیکورٹی اہلکار،2011 میں 732 شہری اور 756 سیکورٹی اہلکار، 2012 میں 3ہزار شہری اور 676 سیکورٹی اہلکار،2013 میں 3ہزار1 شہری اور 676 سیکورٹی اہلکاروں کی شہادت کی رپورٹس ملیں۔ سابقہ دور حکومت میں 307 خودکش حملے ہوئے جس میں 4ہزار753افراد جاں بحق اور 9ہزار602 افراد زخمی ہوئے۔