Latest

کچہری سانحہ میں جج اپنے ہی گارڈ کی گولی کا نشانہ بنے،طالبان کی اکثریت ملک دشمن نہیں، اسلام آباد میں بمباری کا منصوبہ ناکام بنادیا، وزیرداخلہ

کچہری سانحہ میں جج اپنے ہی گارڈ کی گولی کا نشانہ بنے،طالبان کی اکثریت ملک دشمن نہیں، اسلام آباد میں بمباری کا منصوبہ ناکام بنادیا، وزیرداخلہ
اسلام آباد(نمائندہ جنگ؍ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے انکشاف کیا ہے کہ کچہری حملے میں ایڈیشنل سیشن جج رفاقت حسین اپنے ہی گارڈ کی گولیوں کا نشانہ بنے اور سرکاری گارڈ نے اعتراف جرم بھی کرلیا ہے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں ملک کی داخلی سلامتی پالیسی پر جاری بحث کو سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ سانحہ کچہری کی تحقیقات مکمل ہوگئی ہیں،سانحہ کچہری میں کوتاہیاں ہوئی اس کے ذمہ داروں کےخلاف ایکشن ہوگااور ایڈیشنل سیشن جج رفاقت حسین کی موت دہشت گردوں کی گولیوں سے نہیں بلکہ ان کے سرکاری گارڈ کی فائرنگ سے واقع ہوئی۔ رفاقت حسین کی پولیس ٹیم رپورٹ کے مطابق ان کے جسم پر لگنے والی گولیاں کلاشنکوف کی نہیں بلکہ نائن ایم ایم پستول کی تھیں اور وہ پستول ان کے سرکاری محافظ کے پاس تھا۔ پولیس نے جب ان کے سرکاری محافظ کو گرفتار کیا تو اس نے اس بات کا اعتراف کرلیا کہ جج پر فائرنگ مجھ سے ہوئی، کیونکہ حملے کے وقت میں نے دروازہ بند کرلیا تھا اور میری انگلی ٹریگر پر تھی ، دھماکے کے باعث مجھ سے تین گولیاں چل گئیں۔ چوہدری نثار نے بتایا کہ واقعہ کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں، کچہری واقعہ میں ایک اور جج بھی ہدف تھے لیکن وہ اس دن حاضر نہیں تھے، طالبان کی اکثریت ملک دشمن نہیں، اسلام آباد میں طیارے سے بمباری کا منصوبہ ناکام بنادیا، پاکستان کی سلامتی کےلیے داخلی سلامتی پالیسی انتہائی اہمیت کا حامل دستاویز ہے، دہشت گردی کےخلاف لڑائی لمبی ہے کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوں، قومی داخلی پالیسی دستاویز حرف آخر نہیں ،اس پر مزید تجاویز دی جائیں ،سیاستد انوں،قوم اور تمام اداروں کے اتفاق سے دہشت گردی پر قابو پاسکتے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد سانحہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے اور مسلم ممالک میں سب سے زیادہ دہشت گردی کی وارداتیں پاکستان میں ہوئیں لیکن اس وقت پوری دنیا میں دہشت گردی کی کارروائیاں عروج پر ہیں،چین اور امریکا سمیت بڑے ممالک بھی اس لعنت سے دوچار ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر اعلیٰ عدلیہ نے جو ڈائریکشن دی وہ بہت مثبت پیغام ہے جبکہ وکلا اور عدلیہ نے پیغام دیا کہ دہشت گردوں کےخلاف ہم اکٹھے ہیں،کاش یہ پیغام اپوزیشن کی طرف سے بھی آتا۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو سیکورٹی ایجنسی میں خامیاں نظر آتی ہیں مگر گزشتہ6یا8سال میں کیا کیا گیا۔


کچہری سانحہ میں جج اپنے ہی گارڈ کی گولی کا نشانہ بنے،طالبان کی اکثریت ملک دشمن نہیں، اسلام آباد میں بمباری کا منصوبہ ناکام بنادیا، وزیرداخلہ

کچہری سانحہ میں جج اپنے ہی گارڈ کی گولی کا نشانہ بنے،طالبان کی اکثریت ملک دشمن نہیں، اسلام آباد میں بمباری کا منصوبہ ناکام بنادیا، وزیرداخلہ
اسلام آباد(نمائندہ جنگ؍ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے انکشاف کیا ہے کہ کچہری حملے میں ایڈیشنل سیشن جج رفاقت حسین اپنے ہی گارڈ کی گولیوں کا نشانہ بنے اور سرکاری گارڈ نے اعتراف جرم بھی کرلیا ہے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں ملک کی داخلی سلامتی پالیسی پر جاری بحث کو سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ سانحہ کچہری کی تحقیقات مکمل ہوگئی ہیں،سانحہ کچہری میں کوتاہیاں ہوئی اس کے ذمہ داروں کےخلاف ایکشن ہوگااور ایڈیشنل سیشن جج رفاقت حسین کی موت دہشت گردوں کی گولیوں سے نہیں بلکہ ان کے سرکاری گارڈ کی فائرنگ سے واقع ہوئی۔ رفاقت حسین کی پولیس ٹیم رپورٹ کے مطابق ان کے جسم پر لگنے والی گولیاں کلاشنکوف کی نہیں بلکہ نائن ایم ایم پستول کی تھیں اور وہ پستول ان کے سرکاری محافظ کے پاس تھا۔ پولیس نے جب ان کے سرکاری محافظ کو گرفتار کیا تو اس نے اس بات کا اعتراف کرلیا کہ جج پر فائرنگ مجھ سے ہوئی، کیونکہ حملے کے وقت میں نے دروازہ بند کرلیا تھا اور میری انگلی ٹریگر پر تھی ، دھماکے کے باعث مجھ سے تین گولیاں چل گئیں۔ چوہدری نثار نے بتایا کہ واقعہ کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں، کچہری واقعہ میں ایک اور جج بھی ہدف تھے لیکن وہ اس دن حاضر نہیں تھے، طالبان کی اکثریت ملک دشمن نہیں، اسلام آباد میں طیارے سے بمباری کا منصوبہ ناکام بنادیا، پاکستان کی سلامتی کےلیے داخلی سلامتی پالیسی انتہائی اہمیت کا حامل دستاویز ہے، دہشت گردی کےخلاف لڑائی لمبی ہے کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوں، قومی داخلی پالیسی دستاویز حرف آخر نہیں ،اس پر مزید تجاویز دی جائیں ،سیاستد انوں،قوم اور تمام اداروں کے اتفاق سے دہشت گردی پر قابو پاسکتے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد سانحہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے اور مسلم ممالک میں سب سے زیادہ دہشت گردی کی وارداتیں پاکستان میں ہوئیں لیکن اس وقت پوری دنیا میں دہشت گردی کی کارروائیاں عروج پر ہیں،چین اور امریکا سمیت بڑے ممالک بھی اس لعنت سے دوچار ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر اعلیٰ عدلیہ نے جو ڈائریکشن دی وہ بہت مثبت پیغام ہے جبکہ وکلا اور عدلیہ نے پیغام دیا کہ دہشت گردوں کےخلاف ہم اکٹھے ہیں،کاش یہ پیغام اپوزیشن کی طرف سے بھی آتا۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو سیکورٹی ایجنسی میں خامیاں نظر آتی ہیں مگر گزشتہ6یا8سال میں کیا کیا گیا۔