Latest

گردشی قرضہ پھر 246 ارب روپے تک پہنچ گیا، حکومت کا سینیٹ میں جواب

گردشی قرضہ پھر 246 ارب روپے تک پہنچ گیا، حکومت کا سینیٹ میں جواب
اسلام آباد ( آئی این پی) سینیٹ میں حکومت نے بتایا ہے کہ بجلی بنانے والی کمپنیوں کو مجموعی طور پر 480 ارب روپے کی ادائیگی کے بعد گردشی قرضہ پھر246ارب روپے تک پہنچ گیا،گردشی قرضے میں اضافے کی بنیادی وجہ بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی، کل پیداوار کی 22 فیصد بجلی چوری ہورہی ہے ، یورپی یونین کی طرف سے جی ایس پی پلس کی حیثیت دیئے جانا سزائے موت کے خاتمے سے مشروط نہیں،بحری جہازوں سے عازمین کو بھجوانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، حج پالیسی کا اعلان رواں ماہ کر دیا جائے گا۔ ایوان بالا میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر صغریٰ امام کے سوال کے جواب میں وزارت پانی و بجلی کی طرف سے وفاقی وزیر ریاستیں و سرحدی امور لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے بتایا کہ 31 مئی 2013ء کو بجلی بنانے والی کمپنیوں سے طے شدہ واجب الادا قابل ادائیگی رقوم کی مالیت 561 ارب روپے تھی جس میں سے 503 ارب روپے ادا کر دیئے گئے، کاروبار بند کرنے کے نقصانات کے 23 ارب روپے کی کٹوتی کر کے مجموعی طور پر 480 ارب روپے کی ادائیگی کر دی گئی، اس وقت قابل ادائیگی واجبات کی مالیت 81 ارب روپے تھی تاہم 31 جنوری 2014ء کو قابل ادائیگی واجبات کی مالیت 246 ارب روپے پر پہنچی جو کہ 165 ارب روپے کا اضافہ ہے۔