Latest

ہم طالبانائزیشن کے چنگل میںپھنش گئے، یہ وقت فیصلہ کرنےکا ہے، خورشید شاہ

ہم طالبانائزیشن کے چنگل میںپھنش گئے، یہ وقت فیصلہ کرنےکا ہے، خورشید شاہ
اسلام آباد( نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید نے کہا ہے کہ ہم طالبانائزیشن کے چنگل میں پھنس گئے ہیں یہ وقت فیصلہ کرنے کا ہے، اسلام آباد کا واقعہ سکیورٹی کی خامی ہے۔اگر دہشت گردی کی کارروائیوں کی نشاندہی طالبان نے کرنی ہے تو پھر وزارت داخلہ طالبان کو انٹیلی ایجنسی اداروں میں شامل کردے جس سے انٹیلی جنس اداروں کی تعداد27 ہو جائے گی ۔حکومت کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے یا پھر طاقت کے استعمال کا فیصلہ کرنا ہوگا، تاخیر ملک کے لئے تباہ کن ہوگی ۔حکومت پاک ایران منصوبے کو ختم کرنے کے لئے اچھے بہانے ڈھونڈ رہی ہے ۔منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے اپنے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نےآئی جی پولیس اور سیکرٹری داخلہ کو بلا لیا تو انہوں نے مختلف بیان دیا ۔سکیورٹی کی ناکامی کا ذمہ دار کون ہوگا۔چار بندوں نے چالیس منٹ تک دہشت گردی کی کارروائی کی ایسی کوئی فورس نہیں پہنچی ۔انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ اسلام آباد کو دہشت گردی کا خطرہ ہے جس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت اسلام آباد کے واقعہ کے شہداء کے خون کا قوم کو جواب دے ۔حکومت کو دہشت گردی کے خلاف کچھ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے آخری وقت میں ایران سے گیس لیکر اچھا کیا ہے۔ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے پر پاکستان کی پوزیشن خراب ہوئی ہے ۔اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہےاب تو وفاقی دارالحکومت بھی محفوظ نہیں رہا ،یہ خود کش حملہ نہیں تھا بلکہ دہشتگرد کلمہ پڑھ کر 40 منٹ تک فائرنگ کرتے رہے‘ حکومت کو اب ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے اور اس کے لئے جو بھی فیصلہ کیا جائیگا اپوزیشن بھرپور ساتھ دے گی۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ دہشتگردوں کیخلاف کارروائی نہ کرنا افسوس ناک ہے۔موجودہ حالات میں حکومت کی جانب سے سخت ایکشن لینا ناگزیر بن چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر لگی ہیں جو صورتحال دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی نہ ہو ناقابل افسوس ہے، ہم سب کو مل کر دہشتگردی کی سوچ کے خلاف لڑنا ہے، حکومت کو حالات کی نزاکت کو سمجھنا چاہیے۔