Latest

4 نکاتی خارجہ پالیسی لارہے ہیں، بھارت کے ساتھ یکطرفہ ٹریفک نہیں چلے گی، سرتاج عزیز

4 نکاتی خارجہ پالیسی لارہے ہیں، بھارت کے ساتھ یکطرفہ ٹریفک نہیں چلے گی، سرتاج عزیز
اسلام آباد (خبرنگار خصوصی‘ ایجنسیاں) مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ چار نکاتی واضح خارجہ پالیسی تشکیل دی جا رہی ہے، جس میں اندرونی سلامتی ، اقتصادی ترقی ،جغرافیائی محل وقوع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا اور داخلی حالات بہتر کرنا اہم نکات ہوں گے، بھارت کے ساتھ یکطرفہ ٹریفک نہیں چلے گی، امریکی دبائو پرایران گیس منصوبے سے پیچھےنہیں ہٹے،کسی ملک کی مداخلت برداشت نہیں کی جائیگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی واضح متوازن اور زیادہ خود مختار ہونے جا رہی ہے۔ قائداعظم کے اصولوں کے مطابق اپنی خارجہ پالیسی تشکیل دینگے نئی پالیسی کی وجہ سے تبدیلی پوری قوم کو نظر آئے گی۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کو آگے لیکر جانا چاہتے ہیں پابندیاں دونوں ممالک کے درمیان معاہدوں پر حاوی نہیں ہوئیں شام کے حوالے سے سعودی عرب کو ہتھیار فراہم کرنے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ بھارت سے اقتصادی تجارتی تعلقات میں پاکستان کے مفادات کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ قومی اسمبلی میں خارجہ پالیسی پر بحث سمیٹتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ چار نکاتی خارجہ پالیسی تشکیل دے رہے ہیں جس کے تحت کسی دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت کریں گے نہ ہی کسی کی مداخلت اور پالیسی برداشت کی جائے گی اقتصادی ترقی کو بڑھانا ہو گا ہم ٹریڈ چاہتے ہیں ایڈ نہیں۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ اب بھی ترجیح ہے اس بات پر تعجب ہوا کہ سابقہ حکومت نے آخری مہینے کے دوران اس معاہدے پر دستخط کئے یہ تاثر درست نہیں کہ امریکی دبائو پر اس معاہدے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں پاکستان اور ایران کے مشترکہ سرحدی کمیشن کا اجلاس ہوا صدر روحانی کی دعوت پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف جلد ایران کا سرکاری دورہ کرینگے اب ایران کی امریکہ سے بات چیت چل رہی ہے اور ایران کو یہ کہنے جا رہے ہیں کہ پابندیوں میں نرمی آنے پر اس منصوبے کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔