Latest

آج کی رات

آج کی رات


آج کی رات ساز درد نہ چھیڑ
دکھ سے بھر پور دن تمام ہوے
اور کل کی خبر کسے معلوم؟
دوش و فردا کی مٹ چکی ہیں حدود
ہو نہ ہو اب سحر ، کسے معلوم؟
زندگی ہیچ لیکن آج کی رات
ایز دیت ہے ممکن آج کی رات
اب نہ دَہرا فسانہ ہاے اَلم
اپنی قسمت پہ سوگوار نہ ہو
فکر فردا اتار دے دل سے
عمر رفتہ پہ اشکبا ر نہ ہو
عہدِ غم کی حکا یتیں مت پوچھ
ہو چکیں سب شکا یتیںِ مت پوچھ
آج کی رات ساز درد نہ چھیٹر
فیض احمد فیض

1 Comment on آج کی رات

  1. hello, really good article, and a good understand! 1 for my book marks.

Comments are closed.