Latest

اعجاز ہے کسی کا یاگردش زمانہ

اعجاز ہے کسی کا یاگردش زمانہ


اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ
ٹوٹا ہے ایشیا میں سحر فر نگیا نہ
تعمیر آشیاں سے میں نے یہ راز پایا
اہل نواَ کے حق میں بجلی ہے آشیانہ
یہ بندگی خدائی ، وہ بندگی گدائی
یہ بندہ خدا بن یا بندہ زمانہ
غافل نہ ہو خودی سے کر اپنی پاسبانی
شاید کسی حرم کا تو بھی ہے آستانہ
اے لا اِلہ کے وارث باقی نہیں ہے تجھ میں
گفتار دلبرانہ ، کردار قاہرانہ 
تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے
کھویا گیا ہے تیرا جذب قلندرانہ
راز حرم سے شاید اقبال با خبر ہے
ہیں اس کی گفتگو کے اند ر محرمانہ
علامہ اقبال