Latest

اقبال تیری قوم کا اقبال کھو گیا

اقبال تیری قوم کا اقبال کھو گیا


اقبال تیری قوم کا اقبال کھو گیا
ماضی تو سنہرہ ہے مگر حال کھو گیا
وہ رعبُ و دبدبا و جلال کھو گی ا
وہ حسنِ بے مثال وہ جمال کھو گیا
ڈوبے ہیں جوابوں میں پر سوال کھو گیا
اقبال تیری قوم کا اقبال کھو گیا
اُڑتے جو فضاؤں میں تھے شاہین نہ رہے
بُزرگ نہ رہے ذہین نہ رہے 
پاکیزہ گر نہ رہے با دین نہ رہے
وہ لالِ گلزار وہ ماہِ جبین نہ رہے
مومن کا وہ انداز بے کمال کھو گیا
اقبال تیری قوم کا اقبال کھو گیا
علامہ اقبال