Latest

اُداسی میں گھِرا تھادل چراغِ شام سے پہلے

اُداسی میں گھِرا تھادل چراغِ شام سے پہلے
نہیں تھا کُچھ سرِ محفل چراغِ شام سے پہلے
حُدی خوانو،بڑھاؤ لے،اندھیرا ہونے والا ہے
پہنچا ہے سرِ منزل چراغ  شام سے پہلے
دلوں میں اور ستاروں میں اچانک جاگ اُٹھتی ہے
عجب ہلچل،عجب جھِل مِل چراغ شام سے پہلے
وہ  ویسے ہی وہاں رکھی ہے،عصرِآخر شب میں
جو سینے پر دھری تھی سِل،چراغِ شام سے پہلے
ہم اپنی عمر کی ڈھلتی ہو ئی اِک سہ پہر میں ہیں
جو ملنا ہے ہمیں تو مل،چراغِ شام سے پہلے
ہمیں اے دوستو اب کشتیو ں میں رات کرنی ہے
کہ چھُپ جاتے ہیں سب سا حل،چراغ، شام سے پہلے
سحر کا اوّلین تارا ہے جیسے رات کا ما ضی
ہے دن کا بھی تو مُستَقبل، چراغِ شام سے پہلے
نجانے زندگی اور رات میں کیسا تعلقّ ہے
اُلجھتی کیوں ہے اتنی گُل چراغِ شام سے پہلے
محبت نے رگوں میں کس طرح کی روشنی بھر دی
کہ جل اُٹھتا ہے امجدؔ  دل،چراغ، شام سے پہلے
امجد اسلام امجدؔ