Latest

اک خو سی ہو گئی ہے تحمل کی ورنہ اب

اک خو سی ہو گئی ہے تحمل کی ورنہ اب


وہ حوصلہ رہا نہ صبر و قرار کا

آؤ مٹا بھی دو، خلش آرزوئے قتل

کیا اعتبار زندگی مستعار کا

سمجھو مجھے اگر ہے تمہیں آدمی کی قدر

میرا اک التفات نہ مرنا ہزار کا

گر صبح تک وفا نہ ہوا وعدہ وصال

سن لیں گے وہ مآل شب انتظار کا

ہر سمت گرد ناقہ، لیلے بلند ہے

پہنچے جو حوصلہ ہو کسی شہسوار کا

حالیؔ بس اب یقیں ہے کہ دلی کے ہو رہے

ہے ذرہ، ذرہ مہر فضا اس دیار کا
الطاف حسین حالی