Latest

اے خاک نشینو

اے خاک نشینوں اٹھ بیٹھو


اے خاک نشینو ں اٹھ بیٹھو
دربار وطن میں جب اک دن سب جانے والے جائیں گے
کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے کچھ اپنی جزا لے جائیں گے
اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اچھالے جائیں گے
اب ٹو ٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں
جو دریا جھوم کے ا ٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے
کٹتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے
اے ظلم کے ماتو لب کھولو چپ رہنے والو چپ کب تک
کچھ حشر تو ان سے اٹھے گا کچھ دور تو نالے جا ئیں گے
فیض احمد فیض

1 Comment on اے خاک نشینو

  1. Superb ideas! I have been hunting for some thing such as this for a while today. Many thanks!

Comments are closed.