Latest

اے دل بیتاب ٹھہر!

اے دل بیتاب ٹھہر


تیرگی ہے کہ اَمنڈتی ہی چلی آتی ہے
شب کی رگ رگ سے لہو پھوٹ رہا ہو جیسے
چل رہی ہے کچھ اس انداز سے نبض ِ ہستی
دونوں عالم کا نشہ ٹوٹ رہا ہو جیسے
رات کا گرم لہو اور بھی بہ جانے دو
یہی تاریکی تو ہے غازۂ رخسار سحر
صبح ہونے ہی کو ہے اے دل بیتاب ٹھہر
ابھی زنجیر چھنکتی ہے پس پردۂ ساز
مطلق الحکم ہے شیرازۂ اسباب ابھی
ساغر ناب میں آنسو بھی ڈھلک جاتے ہیں
لغزش پا میں ہے پابندی آداب ا بھی
اپنے دیوانوں کو دیوانہ تو بن لینے دو
جلد یہ سطوتِ اسباب بھی اٹھ جائے گی
یہ گرانباری آداب بھی اٹھ جائے گی
خواہ زنجیر چھنکتی ہی چھنکتی ہی رہے

فیض احمد فیض

1 Comment on اے دل بیتاب ٹھہر!

  1. Sweet blog post, sweet blog style, keep up the good work

Comments are closed.