Latest

بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے

بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے


بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے

ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

نہیں مرتے ہیں، تو ایذا نہیں جھیلی جاتی

اور مرتے ہیں تو پیماں شکنی ہوتی ہے

لُٹ گیا وہ ترے کوچے میں رکھا جس نے قدم

اِس طرح کی بھی کہیں راہ زنی ہوتی ہے

مئے کشوں کو نہ کبھی فکر کم و بیش ہوئی

ایسے لوگوں کی طبیعت بھی غنی ہوتی ہے

پی لو دو گھونٹ کہ ساقی کی رہے بات حفیظؔ

صاف انکار میں خاطر شکنی ہوتی ہے

حفیظؔ گوہر