Latest

بے دم ہوئے بیمار دواَکیوں نہیں دیتے

بے دم ہوئے بیمار دواَکیوں نہیں دیتے


بے دم ہوئے بیمار دواَ کیوں نہیں دیتے
تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے

درد شب ہجراں کی جزا کیوں نہیں دیتے
خوں دل وحشی کا صلا کیوں نہیں دیتے

مٹ جائے گی مخلوق خدا تو انصاف کرو گے
منصف ہو تو حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے

ہا ں نکتہ ورد لاؤ لب و دل کی گواہی
ہاں نغمہ گرہ ساز صدا کیوں نہیں دیتے

پیمان جنوں ہاتھوں کو شرما ئے گا کب تک
دل والو ، گریباں کا پتا کیوں نہیں دیتے

بربادی دل جبر نہیں فیض کسی کا
وہ دشمن جاں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے
فیض احمد فیض