Latest

تلاشِ منزل تو جانہ اِک بہانہ تھا

تلاشِ منزل تو جانہ اِک بہانہ تھا
تمام عُمر میں اپنی طرف روانہ تھا
میں تیری دھن میں رواں تھا مجھے پتا نہ چلا
غبارِ راہ میں شامل غمِ زمانہ تھا
میں اُس کو حشر میں کس نام سے صدا دیتا
کہ میرا اُس کا تعارف تو غائبانہ تھا
عجب کشش تھی سمندر کی سبز آنکھوں میں
ہر ایک چشمہ اسی کی طرف روانہ تھا
وہی نہیں تو ورک کس لئے سیاہ کریں
سخن تو عرضِ تمناّ کا اک بہانہ تھا
سمندِ شوق تھا امجدؔ  رواں دواں جب تک
قدم کے نیچے ستاروں کا شامیانہ تھا
امجد اسلام امجدؔ