Latest

تو کہاں تھا زندگی کے روز و شب آنکھوں میں تھے

تو کہاں تھا زندگی کے روز و شب آنکھوں میں تھے
آج یاد آیا کہ آنسو بے سبب آنکھوں میں تھے
رات بھر تاروں کی صورت جاگتے رہنا ہمیں
صبحدم کہنا کہ کیا کیا خوابِ شب آنکھوں میں تھے
تیری یادوں کی مہک ہر دَرد کو بِسرا گئی
ورنہ تیرے دُکھ بھی اے شہرِ طرب آنکھوں میں تھے
اَب تلک جن کی جُدائی کا قلق جی کو نہ تھا
آج تو بچھڑا تو وُہ بھی سَب کے سَب آنکھوں میں تھے
اب تو ضبطِ  غم نے پتھر کر دیا ورنہ فرازؔ
دیکھتا کوئی کہ دِل کے زخم جب آنکھوں میں تھے
احمد فراز