Latest

تُجھ سے مل کر بھی کچھ خفا ہیں ہم

تُجھ سے مل کر بھی کچھ خفا ہیں ہم
بے مروّت نہیں تو کیا ہیں ہم
ہم غمِ کارواں میں بیٹھے تھے
لوگ سمجھے شکستہ پا ہیں ہم
اس طرح سے ہمیں رقیب ملے
جیسے مُدّت کے آشنا ہیں ہمرا
راکھ ہیں ہم اگر یہ آگ بُجھی
جز غمِ دوست اور کیا ہیں ہم
خود کو سُنتے ہیں اِس طرھ جیسے
وقت کی آخری صدا ہیں ہم
کیوُں زمانے کو دیں فرازؔ  الزام
وہ نہیں ہیں تو بے وفا ہیں ہم
   احمد فرازؔ