Latest

جب سے سنی ہے تیری حقیقت چین نہیں اک آن ہمیں

جب سے سنی ہے تیری حقیقت چین نہیں اک آن ہمیں


اب نہ سنیءں گے ذکر کسی کا آگے کو ہوئے کان ہمیں

صحرا میں کچھ بکریوں کو قصاب چراتا پھرتا تھا

دیکھ کے اس کو سارے تمہارے ا گئے یاد احسان ہمیں

یاں تو بدولت زہد و ورع کے نبھ گئی خاصی عزت

بن نہ پڑا پر کل کے لئے جو کرنا تھا سامان ہمیں

سر تھے وہی اور تال وہی پر راگنی کچھ بے وقت سی تھی

غل تو بہت یاروں نے مچایا، پر گئے کثر مان ہمیں

غیر سے اب وہ بیر نہیں، اور یار سے اب وہ پیار نہیں

بس کوئی دن کا سب حالیؔ یاں سمجھو تم مہمان ہمیں
الطاف حسین حالی