Latest

جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تُم ہو

جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تُم ہو
اے جانِ جہاں یہ کوئی تُم سا ہے کہ تُم ہو
یہ کواب ہے، خوشبو ہے کہ جھونکا ہے کہ پَل ہَے
 یہ دُھند ہے،  بادل ہَے کہ سایہ ہَے کہ تُم ہو
اس دید کی ساعت میں کئی رنگ ہیں لرزاں
میں ہوں کہ کوئی اور ہے دُنیا ہَے کہ تُم ہو
دیکھو یہ کِسی اور کی آنکھیں ہیں کہ میری
دیکھوں یہ کسی اور کا چہرہ ہے کہ تُم ہو
یہ عُمرِ گریزاں کہیں ٹھہرے تو یہ جانوں
ہر سانس میں مجھ کو یہی لگتا ہے کہ تُم ہو
ہر بزم  میں مو ضوعِ سخن دل زدگاں کا
اب کون ہے شیریں ہے لیلا ہے کہ تُم ہو
اِک درد کا پھیلا ہوا صحرا ہے کہ میں ہوں
اِک مَوج میں آیا ہوا دریا ہے کہ تُم ہو
وہ وقت نہ آئے کہ دل زار بھی سوچے
اس شہر میں تنہا کوئی ہم سا ہے کہ تُم ہو
آباد ہم آشفتہ سروں سے نہیں مقتل
یہ رسم ابھی شہر میں زِندہ ہے کہ تُم ہو
اے جانِ فرازؔ  اِتنی بھی توفیق کسے تھی
ہم کو غمِ ہستی بھی گوارا ہے کہ تُم ہو
احمد فرازؔ