Latest

جو رنجشیں تھیں جو دِل میں غبار تھا نہ گیا

جو رنجشیں تھیں جو دِل میں غبار تھا نہ گیا
کہ اَب کی بار گلے مل کے بھی گلہ نہ گیا
اَب اس کے وَعدۂ فردا کو بھی ترستے ہیں
کل اُس کی بات پہ کیوں اعتبارآ نہ گیا
اَب اُس کے ہجر میں روئیں نہ وصل میں خوش ہوں
وُہ دوست ہو بھی تو سمجھوکہ دوستانہ گیا
نگاہِ یار کا کیا ہے ہوئی ہوئی نہ ہوئی
یہ دل کا درد  ہے پیار ے گیا گیا نہ گیا
سبھی کو جان تھی پیاری سبی تھے لب بستہ
بس اِک فرازؔ  تھا ظالم سے چُپ رہا نہ گیا
احمد فرازؔ