Latest

جگرؔ مراد آبادی- پھول بسر کرتے ہیں خاروں کے ساتھ

پھول بسر کرتے ہیں خاروں کے ساتھ
کھیلتے ہیں ہم بھی شراروں کے ساتھ
کم نہ ہوئیں ان سے بھی کچھ ظلمتیں
ربط بڑھایا تھا ستاروں کے ساتھ
عشق کہیں تجھ سے نہ لے انتقام
چھیڑنہ کر عشق کے ماروں کے ساتھ
رقص میں ہے کب سے دلِ کائنات
دیدۂ و نادیدہ اشاروں کے ساتھ
جان فدا اس پہ کہ جس نے جگرؔ !
زیست بسر کی نہ سہاروں کے ساتھ
جگرؔ مراد آبادی