Latest

حسینہ خیال سے!

حسینہ خیال سے


 

مجھے دے دے
رسیلے ہونٹ ، معصومانہ پیشانی ، حیس آنکھیں
کہ میں اک بار پھر رنگینیوں میں غرق ہو جاؤں!
میری ہستی کو تری اک نظر آغوش میں لے لے
ہمیشہ کے لئے سک دام میں محفوظ ہو جاؤں
ضیائے حسن سے ظلمت دنیا میں نہ پھر آؤں
گزشتہ حسرتوں کے داغ میرے دل سے دحل جائیں
میں آنے والے غم کی فکر سے آزاد ہو جاؤں
مرے ماضی و مستقبل سرا سر محو ہو جائیں
مجھے وہ اک نظر ، اک جاودانی نظر دے دے
فیض احمد فیض