Latest

حقیقتِ حسن

حقیقتِ حسن


خدا سے حسن نے اِک روز یہ سوال کیا
جہاں میں کیوں نہ مجھے تو نے لا زاول کیا

ملا جواب کہ تصویر خانہ ہے دنیا
شبِ دراز ِ عدم کا فسانہ ہے دنیا

ہوئی ہے رنگِ تغیر سے جب نمود اس کی
وہی حسیں ہے حقیقت زوال ہے جس کی

کہیں قریب تھا ، یہ گفتگو قمر نے سنی
فلک پہ عام ہوئی ، اختر ِ سحر نے سنیُ

سحر نے تارے سے سن کر سنائی شبنم کو
فلک کی بات بتا دی زمیں کے محرم کو

پھر آئے پھول کے آنسو پیامِ شبنم سے
گلی کا ننھا سا دل کون ہو گیا غم سے

چمن سے روتا ہوا موسم بہار گیا
شباب سیر کو آیا تھا ، سوکوار گیا

علامہ اقبال

1 Comment on حقیقتِ حسن

  1. Greetings I found your website by mistake when i was searching Live search for this matter, I have to tell you your blog is totally helpful I also love the layout, it is superb!

Comments are closed.